15 سالہ افریقی طالبہ اپنے علاقے کی بہتری کے لیے کوشاں -
The news is by your side.

Advertisement

15 سالہ افریقی طالبہ اپنے علاقے کی بہتری کے لیے کوشاں

کئی دہائیوں سے غربت اور پسماندگی کی تصویر بنا براعظم افریقہ محروم لوگوں پر تو ضرور مشتمل ہے، تاہم وہاں ایسے افراد کی کمی نہیں جو ذہانت سے مالا مال ہیں اور اپنی اس ذہانت سے اپنے خطے کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں۔

نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا کی 15 سالہ انو اکانم بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔

صرف 15 سال کی عمر میں اسے موقع مل سکا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے ذہن میں موجود آئیڈیاز کو حقیقت میں بدل سکے اور اس کے لیے اسے اقوام متحدہ کی معاونت حاصل ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں: استاد کی انوکھی تصویر، افریقی اسکول کے بچوں کی قسمت بدل گئی

انو کو بچپن ہی سے کمپیوٹر استعمال کرنے کا شوق تھا، وہ بتاتی ہے کہ اسے اسکول میں کمپیوٹر کی نہایت بنیادی تعلیم دی گئی جو اس کے شوق کے آگے ناکافی تھی۔

وہ کہتی ہے، ’عموماً سمجھا جاتا ہے کہ صرف لڑکے ہی کمپیوٹر فیلڈ میں اسپیشلائزڈ کرسکتے ہیں۔ مجھے بچپن سے کمپیوٹر اور کوڈنگ میں دلچسپی تھی اور میں اس کو تفصیل سے جاننے کی خواہش مند تھی‘۔

’میرے پسماندہ علاقے میں بھی یہی سمجھا جاتا تھا کہ لڑکیاں کمپیوٹر سیکھ کر کیا کریں گی، لیکن جب میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر آئی اور وہاں اپنی جیسی بہت سی لڑکیوں کو دیکھا تو میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی‘۔

انو کو اگست میں اقوام متحدہ کی جانب سے افریقی ملک ایتھوپیا میں منعقد کیے جانے والے کوڈنگ کیمپ میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ یہ پروگرام اقوام متحدہ خواتین، افریقی یونین کمیشن اور بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔

اس پروگرام کا مقصد افریقی طالبات کی سائنس و کمپیوٹر کے شعبہ میں آنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس سلسلے میں انہیں تعاون فراہم کرنا تھا۔

انو اس پروگرام سے منسلک ہونے کے بعد کمپیوٹر کوڈنگ کی مزید تربیت حاصل کریں گی۔ وہ کہتی ہیں، ’مجھے یہاں لیپ ٹاپ بھی دیا گیا ہے۔ جب میں اپنے علاقے میں واپس جاؤں گی تو اپنی جیسی کمپیوٹر سے دلچسپی رکھنے والی مزید لڑکیوں کو اس بارے میں معلومات دے سکوں گی۔‘

انو کا آئیڈیا ہے کہ ایسا ڈرون بنایا جائے جسے ایس ایم ایس کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکے اور یہ ڈرون افریقہ کے دیہی علاقوں میں دوائیاں پہنچانے کے کام آسکے جہاں لوگ معمولی بیماریوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔

وہ کہتی ہے، ’افریقہ کے دیہات کئی صدیاں پیچھے ہیں، یہاں لوگوں کی طبی سہولیات تک رسائی نہیں‘۔

انو کا عزم ہے کہ وہ سائنس و کمپیوٹر کے شعبے میں مہارت حاصل کرے اور مستقبل میں اس مہارت کو اپنے خطے کے لوگوں کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں