The news is by your side.

Advertisement

مہنگائی کا مقابلہ کر رہے ہیں، اعلیٰ حکومتی ٹیم کی اہم ورچوئل پریس کانفرنس

اسلام آباد: اعلیٰ حکومتی ٹیم نے آج ایک اہم ورچوئل پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت مہنگائی کا مقابلہ کر رہی ہے، ماضی میں کیے گئے غلط فیصلوں سے نقصان میں جانے والی معیشت کو بہتر بنائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی وزرا شوکت ترین، حماد اظہر اور خسرو بختار نے پریس کانفرنس میں معیشت کے حوالے سے اپوزیشن کے تابڑ توڑ حملوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے غلط فیصلوں سے ملکی معیشت کو 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا سابق دور میں قرضے لے کر معیشت کو بہتر دکھانے کی کوشش کی گئی، ن لیگ دور میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مصنوعی طریقے سے مستحکم رکھا گیا، اور غلط فیصلے سے ملکی معیشت کو 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

شوکت ترین نے کہا موجودہ حکومت کو مجبوراً مالی مدد کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، جس کی وجہ سے اضافی ٹیرف لگانے پڑے۔

انھوں نے کہا ہم ٹیکس نہ دینے والوں کی نہیں بلکہ ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھائیں گے، آئندہ مالی سال خالص ٹیکس وصولی کا ہدف 5 ہزار 8 سو ارب روپے ہوگا، مہنگائی کا مقابلہ کر رہے ہیں، ری اسٹرکچرنگ کر کے خسارے میں چلنے والے بڑے اداروں کی نج کاری کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کرونا کے باجود موجودہ حکومت اقتصادی شرح نمو 4 فی صد تک لے آئی، اگلے مالی سال کے دوران ملکی اقتصادی شرح نمو 5 فی صد رہنے کی توقع ہے، ہمارا ہدف ہے کہ ٹیکس ریونیو ہر سال 20 فی صد بڑھائیں، ہمارا مقصد مزید ٹیکس لگانا نہیں بلکہ ٹیکسوں کے دائرہ کار کو وسعت دینا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا ہم معیشت کو استحکام سے اب آگے بڑھا رہے ہیں، ریونیو 7 ٹریلین سے بڑھائیں گے، ٹیکس پر ٹیکس نہیں لگائیں گے، پی ایس ڈی پی بجٹ کو بڑھایا جائے گا، 2013 میں میاں صاحب کو مشورہ دیا جسے زبیر، اسحاق ڈار نے رد کیا، 2022 اور 23 میں بڑی گروتھ ہوگی جو سب کے لیے ہوگی۔

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ن لیگ کی معاشی ٹیم ملک کو دیوالیہ پن کی حد تک لے آئی تھی، ن لیگ کے آخری 17 ماہ میں زر مبادلہ کے ذخائر نصف کم کر دیے گئے تھے، اور ہمیں ہر سال عالمی اداروں کو 10 ارب واپس کرنے پڑے۔

انھوں نے مزید کہا ن لیگ کے دور میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھا، جب کہ موجودہ حکومت کے دوران گزشتہ کئی ماہ سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے، زر مبادلہ کے ذخائر بھی 2016 کے بعد سے بلند ترین سطح پر ہیں، اور اپوزیشن کو موجودہ حکومت کی معاشی ترقی ہضم نہیں ہو رہی، اور لوگوں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے لیے انھوں نے سیمینار منعقد کیے، اور سمینار میں وہی لوگ شریک ہیں جنھوں نے معیشت تباہ کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں