The news is by your side.

Advertisement

فجی، وہ ملک جہاں روزگار کی خاطر آنے والے ہندوستانیوں کو پچھتانا پڑا

فجی 320 جزائر پر مشتمل ہے، جن میں صرف 90 آباد ہیں۔ کل رقبہ 2700 مربع میل بنتا ہے، لیکن سمندر کو ملا کر یہی رقبہ دس گنا ہو جاتا ہے۔

سب سے بڑا جزیرہ ’وٹی لیوو‘ (VitiLevu) ہے، اس کے بعد ’وَنُوا لیوو‘ (Vanua Levu) اور پھر توِیونی (Taveuni) اور کیدوا (Kadua) آتے ہیں۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ لگ بھگ پچیس ہزار سال قبل بحرالکاہل کے دوسرے جزائر سے آکر لوگ یہاں آباد ہوتے گئے۔ یہ لوگ اپنے گندمی رنگ، مضبوط جسم اور عادات و خصائل کے اعتبار سے برازیل کے قدیم لوگوں سے مشابہ معلوم ہوتے ہیں۔

فجی کی زمین اور موسم کی بات کی جائے تو یہاں بارش بکثرت اور زوروں سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں گنا خوب پھلتا اور پھولتا ہے۔ پھر موسمِ گرما (یعنی جنوری تا مارچ) میں بحر الکاہل سے اُٹھنے والے طوفان فجی کے ساحلوں، بستیوں اور پہاڑوں سے ایسے ٹکراتے ہیں کہ الامان والحفیظ، ٹین کی چھتیں اُڑ جاتی ہیں اور اکثر بہت مالی اور جانی نقصان بھی ہوتا ہے۔

فجی کا سمباتو نامی پہاڑی سلسلہ اپنے نباتاتی حُسن اور عجیب و غریب درختوں کے سبب بھی مشہور ہے۔ اکثر پیڑ پودے ایسے ہیں‌ جو دنیا میں‌ کہیں‌ اور نہیں‌ پائے جاتے۔

جانوروں اور عام مویشیوں‌ کی بات کریں تو فجی میں بھینس اور گدھے کا وجود نہیں۔ سارے جزائر میں درندہ نام کی بھی کوئی چیز نہیں۔ لوگ ہاتھی، شیر، چیتا، بھیڑیا، بندر، ریچھ، سانپ، بچھو، چیل، کوّے اور گدھ کو تصویروں سے پہچانتے ہوں گے، کبھی مشاہدہ نہ کیا ہو گا۔

سووا فجی کا دارالحکومت ہے، یہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا شہر ہے اور تین اطراف سے سمندر میں گھرا ہوا ہے۔

فجی برطانوی کالونی رہا ہے، اور کسی زمانے میں یہاں ہندوستانیوں کی بڑی تعداد مزدوری کے لیے لائی گئی تھی جن میں‌ کچھ لوگ یہیں‌ کے ہو رہے اور آج ان کی نسلیں‌ بھی یہاں‌ آباد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فجی میں کچھ علاقوں میں‌ بسنے والے چند خاندان اور لوگ اردو کے الفاظ بھی سمجھتے ہیں اور یہاں کی زبان میں بھی ایسے کئی لفظ شامل ہیں۔ یہاں حالیہ برسوں کے دوران آنے والے بھارتی اور پاکستانی باشندوں کے گھروں میں‌ ہندی اور اردو بولی جاتی ہے اور بھارت، پاکستان کے علاوہ یہاں ایرانی باشندے بھی مقیم ہیں۔

‌(مآخذ: سفرنامے اور تاریخی مضامین)

Comments

یہ بھی پڑھیں