کراچی (14 دسمبر 2025) پاکستان مخالف بھارتی فلم دھریندر آج کل خبروں کی زد میں ہے سوشل میڈیا پر بھی اس فلم کا پوسٹ مارٹم جاری ہے۔
حال ہی ریلیز ہونے والی بھارتی فلم دھریندر اپنے پاکستان مخالف بیانیے اور بغض پاکستان میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیے جانے کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔
کچھ عرب ممالک میں تو اس کی نمائش پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ لیاری کے پس منظر اور گینگ وار کے حوالے سے مشہور رحمان ڈکیت، ایس ایس پی چوہدری اسلم شہید کے کرداروں کو مسخ اور غیر حقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
اس فلم کے آنے کے بعد ایک جانب پولیس افسر چوہدری اسلم شہید کی بیوہ نے اپنی شوہر کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان کیا ہے، وہیں سندھ حکومت نے بھی میرا لیاری کے نام سے فلم جلد ریلیز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس فلم میں سنجے دت نے ایس ایس پی چوہدری اسلم، اکشے کھنہ نے لیاری گینگ وار کے اہم کردار رحمان ڈکیت اور رنویر سنگھ نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے۔
اب سوشل میڈیا پر بھی اے آئی کی مدد سے ایسی دلچسپ تصاویر وائرل ہو رہی ہیں، جس میں بھارتی فلم میکرز پر طنز کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر یہ فلم حقیقت میں لیاری میں بنتی تو کچھ ایسی ہوتی۔
’دھریندر‘ پر پابندی لگ گئی
اے آئی کی مدد سے بنائی دلچسپ تصاویر سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ہیں، جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
ایک تصویر میں فلم کے تینوں کرداروں کو لیاری کے مشہور چیل چوک پر کھڑے دکھایا گیا ہے۔ دوسری تصویر میں وہ چنگچی رکشا میں سفر کرتے دکھائے گئے ہیں۔
چوہدری اسلم کی بیوہ کا شہید شوہر پر فلم بنانے کا اعلان
لیاری کی پہچان فٹبال اور باکسنگ ہے اور یہاں کے باشندوں نے ان دو کھیلوں میں عالمی سطح پر فتوحات کے جھنڈے گاڑے ہیں۔
اسی مناسبت سے رنویر سنگھ کو لیاری کی ایک گلی میں فٹبال کھیلتے، سنجے دت کو باکسنگ کرتے اور اکشے کھنہ کو مشہور بہاری کباب پراٹھا کی دکان پر دکھایا گیا ہے۔
View this post on Instagram
اس کے علاوہ ان تصاویر میں لیاری کی حقیقی منظر کشی کرنے والی کئی دلچسپ اے آئی تصویریں بھی شامل کی گئی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


