پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

نذرُ الاسلام: پاکستانی فلمی صنعت کے معروف ہدایت کار کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

نذرُ الاسلام کو پاکستانی فلمی صنعت کا بہترین ہدایت کار تسلیم کیا جاتا ہے جنھوں نے فلم آئینہ سے اپنی پہچان بنائی تھی۔ 1977ء کی یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی اور 401 ہفتے تک پردے پر رہی جو اس وقت ایک ریکارڈ تھا۔

فلم ڈائریکٹر نذر الاسلام 1994ء میں آج ہی کے روز انتقال کرگئے تھے۔ انھیں فلمی صنعت میں ’’دادا‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ بحیثیت ہدایات کار انھوں نے اپنے کیریئر کے آخری دور میں فلم لیلیٰ بنائی تھی۔ نذرُ الاسلام 19 اگست 1939ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ وہ نیو تھیٹرز کلکتہ کے دبستان کے نمائندہ ہدایت کار تھے۔ فنی زندگی کا آغاز ڈھاکا سے بطور تدوین کار کیا۔ پھر ہدایت کار ظہیر ریحان کے معاون بن گئے۔ چند بنگالی فلموں کے بعد ایک اردو فلم کاجل بنائی جو بے حد مقبول ہوئی۔ انھوں نے بعد میں ایک بنگالی فلم اور ایک اور اردو فلم پیاسا کی ہدایات دیں۔ 1971ء میں سقوطِ ڈھاکا کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے تھے اور یہاں کئی کام یاب فلمیں‌ بنائیں۔

مغربی پاکستان میں نذرالاسلام نے فلم ساز الیاس رشیدی کے ساتھ اپنے نئے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی فلموں میں حقیقت، شرافت، آئینہ، امبر، زندگی، بندش، نہیں ابھی نہیں، آنگن، دیوانے دو، لو اسٹوری، میڈم باوری کے نام سرفہرست ہیں۔ یہ فلمیں باکس آفس پر کام یاب رہیں۔

بنیادی طور پر ایک تدوین کار یا فلم ایڈیٹر تھے جنھوں نے سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالی فلموں سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ معروف ہدایت کار ظہیر ریحان کے معاون کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔ نذرُ الاسلام کی ڈھاکہ میں دوسری اور آخری اردو فلم پیاسا (1969) تھی جس میں سچندا، رحمان اور عظیم مرکزی کردار تھے۔ سبل داس کی موسیقی میں احمد رشدی کا گیت "اچھا کیا دل نہ دیا، ہم جیسے دیوانے کو…” سپرہٹ ہوا تھا۔

پاکستان میں نذر الاسلام کی پہلی فلم احساس تھی جو 1972 میں‌ پیش کی گئی۔ اس کے گانے بہت مقبول ہوئے اور ان کے گلوکاروں کو بھی فلمی دنیا میں بہت شہرت ملی تھی۔ اس کے باوجود یہ فلم کسی بڑی کام یابی سے محروم رہی تھی۔ 1980ء میں بھی نذرالاسلام کو تین فلموں کی ڈائریکشن دینے کا موقع ملا۔ بندش ان میں سب سے کام یاب فلم تھی جو لاہور میں پلاٹینم جوبلی کرنے والی پہلی اردو فلم تھی۔ یہ فلم انڈونیشیا میں بنائی گئی تھی اور وہاں کی ایک اداکارہ بھی اس فلم کی کاسٹ میں شامل تھی۔ نذرالاسلام نے کل 30 فلمیں بنائی تھیں جن میں سے 20 اردو فلمیں تھیں۔

نذر الاسلام لاہور میں گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں