The news is by your side.

Advertisement

سنسر بورڈ نے تو “روحی” کو قبول کرلیا، مگر کوآپریٹو بینک نہ مانا

چند دہائیوں پہلے تک آپ نے ایسی فلمیں بھی دیکھی ہوں گی جس کے پہلے منظر میں کوئی عورت ہاتھ میں‌ قینچی لیے کپڑا کاٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایسا منظر بتاتا ہے کہ کس طرح دنیا میں‌ تنہا رہ جانے والی ایک مظلوم اور حالات کی ماری ہوئی عورت لوگوں کے کپڑے سِی کر اپنی اکلوتی اولاد کی پرورش کرتی ہے۔ فلم کے کسی سین میں جان ڈالنے کے لیے قینچی کے اس استعمال کو تو فلم ساز سے لے کر شائقین تک سبھی قبول کرلیتے ہیں، لیکن فلم کی تیّاری کے بعد جب سنسر بورڈ کسی سین پر قینچی چلاتا ہے تو فلم ساز مشکل میں‌ پڑ جاتے ہیں۔

1954 میں‌ فلمی صنعت میں “روحی” کا بہت چرچا ہوا تھا جو سنسر بورڈ کی زد میں‌ آنے والی پہلی پاکستانی فلم تھی۔

اس فلم کی کہانی کا مرکزی کردار ایک نہایت امیر کبیر اور ایسی شادی شدہ عورت تھی جو ایک نوجوان پر فدا ہوجاتی ہے۔ اسی پر سنسر بورڈ کو اعتراض تھا اور یوں یہ فلم نمائش کے لیے پیش نہ کی جاسکی۔ بعد میں‌ فلم ڈائریکٹر نے فلم کے مناظر کو کاٹ چھانٹ سے گزارا اور اسے قابلِ قبول بنا دیا گیا۔

اعتراض‌ دور ہونے کے بعد یہ فلم تو نمائش کے لیے پیش کردی گئی، مگر نمائش کے ساتھ ہی اسے شراکت داروں میں تنازع بھی دیکھنا پڑا۔ اس فلم کے لیے کوآپریٹو بینک سے قرض لیا گیا تھا جو واپس نہ کیا گیا تو کوآپریٹو بینک نے اسے ضبط کرلیا اور اس کا نیگیٹو ڈبوں میں بند کردیا گیا۔

فلم سازوں اور ناقدین کی نظر میں‌ یہ فلم فنّی اعتبار سے مضبوط تھی اور ایک ایسی فلم تھی جسے قومی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا جاتا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔

(عارف وقار کے مضمون سے خوشہ چینی)

Comments

یہ بھی پڑھیں