The news is by your side.

Advertisement

فیاض اور دلیر ہدایت کار کے آصف کا تذکرہ

فلموں کی تاریخ میں ‘کے آصف’ نے بڑی اونچی جگہ پائی ہے۔ وہ بڑے ہی فیاض اوردلیر آدمی تھے۔ انھوں نے ہلچل اور مغلِ اعظم بنائی۔ اس وقت جب کہ پچیس تیس لاکھ میں ایک عمدہ فلم مکمل ہوجاتی تھی، انھوں نے ایک کروڑ کی لاگت سے مغلِ اعظم بنائی۔

اس فلم کا ہر کردار انگوٹھی کے نگینہ کی طرح فٹ تھا۔ مغل شہنشاہ اکبر کے رول میں پرتھوی راج کپور، رعب و دبدبہ میں اصلی شہنشاہ معلوم پڑتے تھے۔ شہزادہ سلیم کے رول میں دلیپ کمار، انار کلی کی رول میں مدھوبالا اور مہارانی کے رول میں درگا کھوٹے، وزیر اعظم راجہ مان سنگھ کے رول میں مراد، سپہ سالار کے رول میں اجیت اور سنگ تراش کے رول میں کمار تھے۔

امتیاز علی تاج کے ڈرامے پر مبنی اس فلم کی نوک و پلک کو سنوارنے کے لیے ادیبوں کی ایک ٹیم تھی جن میں امان اللہ خان، وجاہت مرزا، اخترالایمان، کمال امروہی اور احسن رضوی شامل تھے۔ جب کہ ان میں سے ہر ایک رائٹر اپنی فلم کی کام یابی کے لیے اکیلا ہی کافی تھا۔

ایک ہی سین کو ہر رائٹر اپنے اپنے ڈھنگ سے لکھتا اور جو سب سے اچھا اور مناسب ہوتا بااتفاقِ رائے اسے منتخب کرکے فلم میں شامل کیا جاتا۔ اس فلم کے سارے نغمے شکیل بدایونی نے لکھے تھے اور موسیقی نوشاد نے ترتیب دی تھی۔

اس میں شامل نعت شریف ’بے کس پہ کرم کیجیے سرکارِ مدینہ‘ اور قوالی کا مقابلہ ”تیری محفل میں قسمت آزماکر ہم بھی دیکھیں گے“ اس کے علاوہ سارے نغمے فلم ریلیز ہونے سے قبل ہی مقبول ہوچکے تھے۔

مغل حکومت کے رواج کے مطابق اس فلم میں انارکلی کو لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی کے دیوان سے فال کھولتے بھی دکھایا گیا ہے۔

اس فلم کی تکمیل میں کے آصف نے فنانسر کے علاوہ اپنا مکان تک گروی رکھ دیا تھا۔ لیکن فلم کی کام یابی نے ان کے سارے قرضے چکا دیے۔ اس کے مکالمے اپنی فارسی زدگی کے باوجود جس طرح مقبول ہوئے وہ اردو کی چاشنی ہی کرامت تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں