پیر, اکتوبر 5, 2026
اشتہار

شوکت کیفی اور ہری ہرجری والا

اشتہار

حیرت انگیز

سنجیو کمار کو ہندی سنیما کی تاریخ کا عظیم اداکار تسلیم کیا جاتا ہے جو ہندی سنیما میں سنجیو کمار کے نام سے شہرت اور مقبولیت سے پہلے اسٹیج ڈراموں میں ہری ہر جری والا کے نام سے کام کرکے سب کو چونکا چکے تھے۔ اپنے وقت کی تھیٹر اور ہندی فلم انڈسٹری کی مشہور اداکارہ شوکت کیفی نے بھی سنجیو کمار کے ساتھ اس زمانے میں کام کیا تھا جب وہ شہرت کے زینے طے کررہی تھیں اور ہری ہر جری والا نے ابھی اس نگری میں پہلا قدم رکھا تھا۔

ہری ہر جری والا کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ وہ اپنی عمر سے کہیں بڑے کرداروں کو اتنی حقیقت پسندی سے نبھاتے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے تھے۔ وہ صرف 22 سال کے تھے جب انھوں نے تھیٹر اسٹیج پر ساٹھ سالہ بوڑھے آدمی کا کردار نبھا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ شوکت کیفی نے اپنی خود نوشت میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ شوکت کیفی اردو کے ممتاز ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی کی شریکِ حیات اور بولی وڈ کی مشہور آرٹسٹ شبانہ اعظمی کی والدہ تھیں۔ وہ اپنی خودنوشت میں لکھتی ہیں:

1950ء میں ہنگل صاحب پاکستان سے ہندوستان آگئے تھے۔ ہنگل صاحب اور آر ایم سنگھ صاحب دونوں ہی پارٹی ممبر تھے۔ انہوں نے مل کر اِپٹا کو سنبھال لیا۔ دو ڈرامے کیے۔ یہ دونوں ہی ڈرامے ہٹ ہوئے۔

1957ء میں ہنگل صاحب نے ڈمرو نام کا ایک ڈرامہ ڈائریکٹ کیا۔ اُن دنوں ایک نوجوان لڑکا جس کا نام ہری ہر جری والا تھا، بہت پابندی سے اِپٹا کرتا تھا۔ بائیس تئیس سال کی عمر رہی ہو گی۔ ڈراموں سے بے حد دل چسپی تھی۔ اُس کا پابندی سے آنا ہنگل صاحب کو بھا گیا۔ اُنھوں نے ڈمرو نام کے ڈرامے میں ہری ہرجری والا کو مرکزی رول کے لیے چن لیا۔ اس کیریکٹر کی عمر ساٹھ سال کی تھی، جو بینک میں ملازم تھا۔ اُس کی بیوی کا رول مجھے دیا گیا۔ اُس وقت تک میں ایک مشہور ایکٹریس ہو چکی تھی۔ میں ایلیک پدمسی کے ڈراموں میں بھی کام کرتی تھی اور اپٹا میں بھی۔

میں نے اُس لڑکے کو دیکھا اور ہنگل صاحب سے کہا، "آپ نے اتنے اہم رول کے لیے اتنے young اور ناتجربہ کار لڑکے کو لے لیا، کیا وہ یہ رول نبھا سکے گا؟”

ہنگل صاحب نے کہا، ” شوکت جی، یہ لڑکا بہت ہی پابندی سے آیا کرتا ہے۔ ہم کوشش تو کر سکتے ہیں۔ میرے کیریکٹر کی عمر پچاس سال تھی۔ ایک عورت جو زیادہ بچوں کی وجہ سے سٹھیا سی گئی تھی۔ جب ریہرسل شروع ہوئی تو میں حیران رہ گئی۔ اتنی بڑی عمر کے آدمی کا رول وہ لڑکا کس خوبی سے ادا کر رہا تھا۔ جب ڈرامہ اسٹیج ہوا تو لوگ مجھے بھول گئے، سب ہری ہر جری والا کے مکالمے دہراتے رہتے۔ اُن کا ایک مکالمہ تھا، "محنت کرو بھائی محنت، تبھی آگے بڑھو گے، تبھی ترقی ہوگی، آدمی بن جاؤ گے آدمی۔

اُس کا میک اپ اور مینر ازم (mannerism) اس قدر صحیح تھا کہ میں حیران رہ گئی۔ وہ کہیں سے بھی تئیس سال کا نوجوان نہیں لگتا تھا۔ پھر تو سبھی رائٹر، ڈائریکٹر اس لڑکے کے دیوانے ہو گئے۔ ہر ڈرامے میں اُسی کو کاسٹ کیا جاتا۔ وشوامتر عادل جو ہمارے جنرل سیکریٹری اور اسکرپٹ رائٹر بھی تھے، اُس کی اس صلاحیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اُسے فلموں میں لے گئے۔ ہر ڈائریکٹر سے اُسے متعارف کروایا۔ بی کلاس کی فلموں سے اُس نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور بڑے بینر کی فلموں تک پہنچ گیا۔ دنیا اُس ہری ہر جری والا کو سنجیو کمار کے نام سے جانتی ہے۔ اُسے صفِ اوّل کا اداکار تسلیم کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ بہت کم عمری میں ہی اُس کا انتقال ہو گیا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں