The news is by your side.

Advertisement

ضمنی مالیاتی ترمیمی بل2019 کثرت رائے سے منظور، اپوزیشن کی ترامیم مسترد

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی ترمیمی بل2019 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، اپوزیشن اراکین نے تمام ترامیم مسترد کرنے پر شدید احتجاج کیا، وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ میثاق معیشت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی مالیاتی ترمیمی بل دوہزار انیس پیش کیا، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ شہباز شریف صاحب نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ میثاق معیشت ہونا چاہیے، ہم میثاق معیشت کا خیر مقدم کرتے ہیں، اپوزیشن اراکین دھواں دار تقاریر تو کرتے ہیں مگر تجویز کوئی نہیں دیتا، ہم ان کے تجربے سےاستفادہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگی رکن اسمبلی نے دھواں دھار تقریر کی اور کہا کہ ان کے دور حکومت میں معیشت میں اضافہ ہو رہا تھا، میرا ان کو مشورہ ہے کہ تنقید کرنے والے اپنی حکومتوں کے اعداد وشمار چیک کریں، پتا نہیں ان کو ایسے اعداد و شمار کون دے دیتا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ملک غیور قیادت کے ہاتھ میں ہے، اب پاکستانی وزیراعظم بھارتی وزیراعظم کواپنےگھرکی شادیوں پرنہیں بلاتا،  ہم مانتے ہیں کہ مہنگائی بالکل ہے اور اس پر بھی بات ہونی چاہیے، حکومت نے پرانے قرضوں پر700ارب روپے سے زائد سود کی مد میں ادا کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف پوچھتے ہیں کہ نئے قرضے کہاں جارہے ہیں؟ ان کو جان لینا چاہیے کہ نئےقرضے پرانے قرضوں کی ادائیگی پرخرچ ہورہے ہیں، شہباز شریف صاحب آپ معیشت کو کھائی میں گرا کر گئے لیکن خوشی ہوئی کہ انہیں بھی مہنگائی کی بھی فکر ہے۔

مزید پڑھیں: کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر دھول جم چکی ہے: بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے افراط زر کی بات کر کے کمال کر دیا، کاش انہیں اپنی حکومت میں افراط زر کی فکر ہوتی، بلاول بھٹو نہ جانے کیوں انگریزی زبان میں پارلیمان سے خطاب کرتے رہے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کرتے ہوئے فنانس ترمیمی بل 2019 کثرت رائے منظور کر لیا گیا۔

قبل ازیں اسمبلی کے اجلاس میں جے یو آئی کے اسعد محمود کو مذمتی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے پر ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی، اراکین نے شور شرابہ کرنا شروع کردیا۔ مشتعل اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا، اس موقع پر پہلی بار اسپیکر ڈائس کے سامنے باجماعت نماز کی ادائیگی کی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں