روپے کی قدر میں کمی، تحقیقاتی رپورٹ 10دن میں جمع کروانے کا باضابطہ حکم -
The news is by your side.

Advertisement

روپے کی قدر میں کمی، تحقیقاتی رپورٹ 10دن میں جمع کروانے کا باضابطہ حکم

کراچی : وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک کو تحقیقاتی رپورٹ دس دن میں جمع کروانے کا باضابطہ حکم دے دیا۔

وزارت خزانہ نے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر با ضابطہ تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ، یہ تحقیقات وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ہدایت پر کی جاری ہے، وزیر خزانہ مانیٹری اینڈ فیسکل پالیسی کارڈینیشن بورڈ کے چیئرمین ہونے کے حیثیت سے تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں۔

وزارت خزانہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے نئے گورنر طارق باجوہ نے اس معاملے کی مذکورہ رپورٹ 10 روز میں طلب کرلی ہے۔

خیال رہے کہ 5 جولائی کو ڈالر کی قیمت اچانک 108.25 روپے پر آگئی تھی جبکہ 4 جولائی کو ڈالر کی قیمت 104.90 تھی۔

جولائی 2017 کو مختلف بینکس کے صدور اور سی ای اوز سے ہونے والی ملاقات کے بعد وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔


مزید پڑھیں : پاکستانی روپے کی قدر میں راتوں رات کمی، ڈالر 109 روپے تک جا پہنچا


خیال رہے کہ 5 جولائی کو یکایک ڈالر مارکیٹ میں مہنگا ہو گیا تھا جبکہ روپے کی قدر میں تین فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی، ایک ڈالر ایک سو آٹھ روپے پچیس پیسے تک فروخت ہوا، بینکنگ سیکٹر اور وزارت خزانہ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

ڈالر کی قدر میں یہ اچانک تبدیلی غیر ملکی کرنسی مارکیٹ میں اچانک استحصال کی تشخیص اور تشویش کی وجہ سے سامنے آئی تھی جس کے بعد اسی روز 5 جولائی کو وزیر خزانہ نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔

وزیر خزانہ نے 6 جولائی 2017 کو مختلف بینکس کے صدور اور سی ای اوز کا اجلاس طلب کیا، جس کے بعد اسٹیٹ بینک سے اس معاملے پر تحقیقات کی ہدایت کی۔

روپے کی قدر میں کمی کو وزارت خزانہ نے مصنوعی اور اسٹیٹ بینک نے وقت کی ضرورت قرار دیا۔

وزارت خزانہ نے نئے گورنر اسٹیٹ بینک کو روپے کی قدر میں کمی کی تحقیقات کرنے کی ہدایات دیں، وزارت خزانہ کاکہنا ہےکہ کارروائی تحقیقات کی روشنی میں کی جائے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں