سندھ پولیس میں موجود مزید 2 کالی بھیڑوں کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ پولیس میں موجود مزید 2 کالی بھیڑوں کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج

کراچی: اے سی ایل سی کے انسپکٹر اشتیاق غوری اور شرجیل منگی کے خلاف اغواء کا مقدمہ مغوی ڈاکٹر احمد کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے سی ایل سی شریف آباد کے انسپیکٹر اشتیاق غوری اور شرجیل منگی کے خلاف گلشن اقبال کے تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، دونوں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے شہری ڈاکٹر احمد کو گلشن اقبال 13 ڈی 2 سے اغواء کر کے رہائی کے لیے تاوان طلب کیا تھا۔

پولیس کی کالی بھیڑوں سے  رہائی حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر احمد نے ڈی آئی جی سے اغواء کے معاملے پر شکایت کی جس پر انہوں نے آئی جی سندھ کے سامنے پولیس میں موجود کالی بھیڑوں اور اغواء برائے تاوان میں ملوث افسران کے بارے میں آگاہ کیا۔

پڑھیں :  انسداد دہشت گردی ونگ کا انسپکٹراغواء برائے تاوان میں ملوث نکلا

شہری کی جانب سے گلشن اقبال تھانے میں انسپیکٹر اشتیاق غوری اور شرجیل منگی کے خلاف گلشن اقبال تھانے میں مقدمے کی درخواست دی ہے جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’’اے سی ایل سی کے افسر اور اُن کے ماتحت نے گلشن اقبال سے اغواء کر کے رہائی کے لیے 10 لاکھ روپے تاوان طلب کیا جس کے بعد دونوں ملزمان نے ساڑھے 3 لاکھ روپے، گاڑی، لیپ ٹاپ اور کریڈٹ کارڈ رکھ کر رہا کیا‘‘۔

FIR

دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف گلشن اقبال تھانے میں ایف آئی نمبر 246/16 سے درج کرلی گئی ہے، ایف آئی آر میں دہشت گردی ایکٹ سمیت اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔

آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے تحقیقات کرنے کے لیے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے جس کے ذمہ داری ڈی آئی جی ویسٹ ذوالفقار لالک اور ایس پی سٹی فیض اللہ کے سپرد کی گئی ہے۔

یاد رہے دو روز قبل ایس ایچ او ٹیپو سلطان کو اغواء برائے تاوان کی رقم لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے جب کے اشتیاق غوری کے خلاف پہلے بھی اغواء کا ایک مقدمہ درج ہے۔


ACLC Sharifabad officer Ishtiaq involved in… by arynews

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں