The news is by your side.

Advertisement

فرشتہ زیادتی و قتل کیس : ایس ایچ اوشہزاد ٹاؤن اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

اسلام آباد : فرشتہ زیادتی و قتل کیس میں ایس ایچ شہزاد ٹاؤن اوردیگراہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں کہا ایس ایچ او نےڈھونڈنے کی بجائے کہاکسی کے ساتھ چلی گئی ہوگی، ملوث اہلکاروں اورایس ایچ اوکیخلاف مجرمانہ غفلت پرکارروائی کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق دس سال کی فرشتہ سے زیادتی و قتل کیس میں ایس ایچ شہزاد ٹاؤن اور دیگراہلکاروں کے خلاف والدکی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا، والد کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے بچی کو ڈھونڈنے اورایف آئی آر کے لیے تھانے کے کئی چکرلگوائے گئے، ایس ایچ او نےڈھونڈنے کی بجائے کہا کسی کے ساتھ چلی گئی ہو گی۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے پولیس اہلکار تھانے کی صفائیاں کراتے رہے، ملوث اہلکاروں اور ایس ایچ او کیخلاف مجرمانہ غفلت پر کارروائی کی جائے۔

یاد رہے ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی ’’فرشتہ‘‘ نامی 10 سالہ بچی کو تین روز قبل اغوا کیا گیا، جس کا مقدمہ والدین نے درج کروانے کی کوشش کی تاہم والدین کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور ہماری بچی کو تلاش نہیں کیا۔

ملزمان گزشتہ روز فرشتہ کی لاش قریبی جنگل میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے، جب لواحقین کو لاش ملنے کی اطلاع ملی تو انہوں نے شدید احتجاج کیا، مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ اسپتال انتظامیہ نے بھی پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ساڑھے 6 بجے کے بعد وقت ختم ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں : فرشتہ مہمند‘‘ کیس، 2 افغانیوں سمیت تین گرفتار، ایس ایچ او معطل

اہل خانہ نے ’’فرشتہ‘‘ کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا آغاز کیا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کی۔

آئی جی نے غفلت برتنے پر تھانہ شہزاد ٹاؤن کے ایس ایچ او کو معطل کردیا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے زیادتی اور قتل کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا جن میں سے دو کا تعلق افغانستان سے ہے۔

اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلاول ابڑو نے کیس کی جوڈیشل انکوائری قائم کرتے ہوئے 7 روز میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق فرشتہ 15مئی کومبینہ طور پر اغواہوئی، والد نے تھانے میں اطلاع دی مگر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔

دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا بچی کاپوسٹ مارٹم مکمل ہوچکا اب اس کا فرانزک اور ڈی این اے کرایا جائے گا، مقدمہ درج کر کے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ تفتیش کے لیے 2 ایس پیز کی سربراہی میں کمیٹی بنادی گئی ہے جو 7 روز میں اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں