کراچی : شارع فیصل پر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ اور ایمبولینس پر مشتعل افراد کے دھاوے کا مقدمہ 300سے زائد افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔
کراچی کی مرکزی شارع فیصل پر ریلی کی آڑ میں شرپسندی اور پرتشدد واقعہ میں ملوث12شرپسندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی پولیس کی جانب سے 300 سے زائد افراد کےخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
مقدمہ اقدام قتل، دہشت گردی، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ کی دفعات کے تحت درج ہوا، ایسٹ زون کی حدود میں بھی پرتشدد واقعات پیش آئے۔
شرپسندوں نے ایمبولینس میں توڑپھوڑ کی اور ڈرائیور پر بدترین تشدد کیا، ممکنہ طور پر ایسٹ زون میں بھی مقدمات کا اندراج کیا جائے گا۔
ایف آئی آر کے متن میں لکھا ہے کہ ریلی کے شرکا نے دونوں اطراف کی سڑکیں بند کیں، پولیس پر فائرنگ اور پتھراؤ کیا، مسافر گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
ایمبولینس، ریڈ بس اور صدر تھانے کی پولیس موبائل کو شدید نقصان پہنچایا، ریلی کے شرکا ملک دشمن نعرے بازی کرتے رہے، کارسرکار میں مداخلت اور پولیس پارٹی پر حملہ کیا۔
متن کے مطابق پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی تاکہ سرکاری و غیرسرکاری املاک کا نقصان روکا جائے، ریلی کے شرکا300سے 400اشخاص پر مشتمل تھے،12کو پکڑ لیا گیا۔
قبل ازیں شارع فیصل پر مشتعل افراد کے تشدد کا نشانہ بننے والا متاثرہ ایمبولینس ڈرائیور فیروزآباد پولیس اسٹیشن پہنچا اور پولیس کا شکایت درج کراتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پولیس نے ایف آئی آر کے اندراج کیلیے ڈرائیور کو میڈیکل رپورٹ کیلئے اسپتال روانہ کردیا۔
متاثرہ ایمبولینس ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہا کہ جناح اسپتال سے مریض کو اتار کر آرہا تھا ، شارع فیصل کے قریب مشتعل افراد نے اچانک ایمبولینس پر توڑپھوڑ شروع کردی، ان لوگوں نے مجھے بھی بے دردی سے مارا۔
شارع فیصل پر پولیس، ریلی کے شرکا میں تصادم، شریک افراد نے ایمبولنس کو بھی نہ بخشا
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


