The news is by your side.

Advertisement

واردات اور مقابلے کے وقت میں 3 گھنٹے کے فرق نے پولیس مقابلے کا پول کھول دیا

لاہور: ایک ہفتہ قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ہونے والے پولیس مقابلے کا پول خود تھانے کے ریکارڈ نے کھول دیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ مقابلے اور واردات کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے کا فرق تھا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے مزید حقائق سامنے آ گئے ہیں، تھانے کے اپنے ریکارڈ نے پولیس کے مقابلے کو مشکوک بنا دیا۔

خیال رہے کہ کاہنہ میں گزشتہ ہفتے پولیس نے مبینہ مقابلے میں 2 ڈاکوؤں وقاص اور سفیان کو ہلاک کیا تھا، جس پر آئی جی پنجاب نے تحقیقات کا حکم دیا تھا، ڈی آئی جی انسپکشن اینڈ اکاؤنٹی بیلیٹی یوسف ملک اس مقابلے کی انکوائری کر رہے ہیں۔

انکوائری کے دوران اس کیس کے ایف آئی آر سے معلوم ہوا کہ ڈکیتی کی واردات اور پولیس مقابلے میں ساڑھے 3 گھنٹے کا فرق ہے۔

موبائل چارجنگ کے دوران فون کے استعمال سے لڑکی کی موت، تحقیقات میں نئی کہانی سامنے آ گئی

ایف آئی آر میں درج ہے کہ کاہنہ کے سبزی فروش ارشد سے ڈکیتی کی واردات 3:15 پر ہوئی، جب کہ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ 6:45 پر ہوا۔

واضح رہے کہ پولیس نے واردات کے بعد فرار ہوتے ڈاکوؤں سے مقابلے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم، ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں دو ڈاکوؤں کو زندہ پکڑے دیکھا گیا، یعنی پولیس نے دو ڈاکوؤں کو زندہ پکڑنے کے باوجود جعلی مقابلے میں انھیں قتل کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد ہلاک نوجوانوں کے ورثا کا کہنا تھا کہ کاہنہ پولیس نے ہمارے مخالفین سے 25 لاکھ روپے لے کر جعلی مقابلہ کیا۔

مقدمے کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ڈاکوؤں کے قبضے سے ارشد کا پرس اور شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا۔ متن کے مطابق اس واردات کے مدعی مقدمہ ارشد نے 4 میں سے 2 ڈاکوؤں کا حلیہ لکھوایا تھا، اور پولیس مقابلے کے مقدمے میں بھی صرف 2 ڈاکوؤں کے حلیہ جات درج ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں