ایک زمانہ تھا جب ہندوستان بھر میں فارسی زبان و ادب کو پڑھنے اور سمجھنے والے موجود تھے۔ اس وقت لوگ فارسی زبان جانتے تھے۔ کیوں کہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل تھی اور یہ زبان عام بولی جاتی تھی۔ باذوق قارئین میں شاہنامۂ فردوسی بہت مقبول رہی جو ایک طرح سے ہمیں ایرانی تاریخ و تہذیب سے آشنا کرواتی ہے۔ یہ فارسی کے عظیم شاعر فردوسی کی تخلیق ہے اور آج بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
برصغیر میں کسی بھی زبان و ادب کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ اس دور کی کتابوں میں کئی حکایات اور ایسے دل چسپ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جو زبان و ادب کی چاشنی کے ساتھ ہمارا دامن حکمت و دانش کے موتیوں سے بھر دیتے ہیں یہ واقعات پُرلطف بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔ ایک ایسا ہی پُرلطف واقعہ شاہنامۂ فردوسی سے متعلق پیش ہے۔
ایک شہزادہ بہت عرصے تک زنان خانے میں رہا۔ اس کا زیادہ اٹھنا بیٹھنا شاہی خاندان کی خواتین اور کنیزوں کے درمیان تھا، لہٰذا اس میں کچھ زنانہ پن آگیا۔ اس کے اندازِ نشست و برخاست سے نسوانیت جھلکنے لگی۔ اس پر بادشاہ کو تشویش ہوئی اور اس نے چند دانا لوگوں سے مشورہ کیا۔ کسی نے کہا کہ شہزادے کو شاہنامۂ فردوسی پڑھوایئے۔ اس میں ایران کے قدیم جنگجوؤں اور بہادروں کے قصّے اور جنگ و جدل کی تصویر کشی ہے۔ ممکن ہے کہ ان کے پڑھنے سے شہزادے کا دل قوی ہو اور کچھ مردانہ صفات پیدا ہوں۔ بادشاہ نے اس کا انتظام کر دیا۔
کچھ عرصے کے بعد بادشاہ نے شہزادے سے دریافت کیا کہ شاہنامہ پڑھتے ہو، اس کا کون سا شعر تمھیں زیادہ پسند آیا۔ شہزادے نے ایک شعر سنایا اور گویا سب کی نظر میں مذاق بن گیا۔ وہ شعر تھا؛
منیزہ منم دختِ افراسیاب
برہنہ ندیدہ تنم آفتاب
یعنی میں افراسیاب کی بیٹی منیزہ ہوں اور (میں اتنی شرمیلی ہوں کہ) میرے جسم کو سورج نے بھی عریاں نہیں دیکھا (یعنی کبھی بے پردہ باہر نہیں آئی)۔
بادشاہ کے مشیر کہنے لگے کہ شہزادہ لاعلاج ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


