The news is by your side.

Advertisement

سابقہ دور کے لوگ ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے: فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ سابقہ دور کے لوگ ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل رہے، وزیر اعظم اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک پاکستان کا قیمتی اثاثہ اگلی نسل تک منتقل کرنا ہمارا فرض ہے۔ قائد کے دو قومی نظریے کا پرچار کتابوں میں پڑھا تھا اب دیکھ بھی لیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ آج خطے میں بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی جاری ہے، بھارت میں آج انسانی حقوق کا استحصال جاری ہے۔ مظلوم کشمیریوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی، سماجی اور مالی برتری کے لیے قائد کے افکار کی روشنی میں متحد ہونا ہے، قائد کے وژن کے مطابق وزیر اعظم آج اصلاحات کی طرف رواں دواں ہیں۔ قائد اعظم کا پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ہر شعبے میں گلے سڑے نظام کے لیے ریفارمز ایجنڈا متعارف کروایا جا رہا ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ جنہیں حکومت سے باہر 2 سال نہیں ہوئے وہ تڑپ رہے ہیں، سابقہ دور کے لوگ ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل رہے۔ وہ لوگ ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے اداروں میں ٹکراؤ کرواتے رہے۔ اداروں کو کمزور کرنے کی پس پردہ کاوشیں ٹوٹ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم اپنے سیاسی مفاد اور اپنے بچوں کے لیے نہیں بلکہ قوم کے لیے فکر مند ہیں، معیشت کا جو پہیہ رکا ہوا تھا اس میں بہتری کے لیے کچھ ترامیم کی گئیں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ روایتی ہتھکنڈے وزیر اعظم کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں، حکومت قانون کی عملداری اور صادق و امین بیورو کریٹ کو تحفظ دیتی ہے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں کرپشن فری پاکستان کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیب اور ایف آئی اے جیسے اداروں کو آزاد کیا۔ نیب کے شکنجے میں آنے والا ہر شخص یہی کہتا ہے یہ سیاسی اور انتقامی کارروائی ہے، سابقہ دورمیں تو ایف آئی اے کو گھر کی لونڈی بنا کر رکھا تھا، آج ایف آئی اے میں پیش ہونا پڑ رہا ہے تو یہی تبدیلی ان کو ہضم نہیں ہو رہی۔ آپ قانون کو جوابدہ ہیں نہ کہ قانون آپ کو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں