The news is by your side.

Advertisement

عوام کی خوشحالی اور قومی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات کے ثمرات آنا شروع

رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں 580 ارب روپے ٹیکس جمع

اسلام آباد: وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں 580 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں 6 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ عوام کی خوشحالی اور قومی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر کاربند اور اقتصادی صورتحال میں بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ ٹیکس ریونیو بڑھانا اور مالیاتی خسارے کو کنٹرول رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں گزشتہ سال کے 509 ارب کے مقابلے میں 580 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں 6 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہوا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اس کامیابی کا سہرا عمران خان کے سر ہے جنہوں نے پاکستان میں پہلی بار ٹیکس وصولی کے فرض کو قومی تحریک کی شکل دی۔ پہلی بار حکمرانوں کے بجائے قومی خزانے کی آمدن بڑھ رہی ہے۔ یہ ملک و قوم اور معیشت کے لیے خوشخبری ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 سیلولر کمپنیوں سے لائسنس فیس کی مد میں 70 ارب روپے وصول ہوئے، ایک اور کمپنی سے مزید 70 ارب وصول ہونے کی امید ہے۔ اس سیکٹر سے مجموعی طور پر 200 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 فیصد کمی یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے۔ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں واضح کمی آئی۔ ملک میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کیے ہیں، 2 مہنیوں میں کوئی سپلیمنٹری گرانٹ منظور نہیں ہوئی جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں کرنسی کی قدر بہتر ہونے سے حکومت کو 246 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔

اپنے ٹویٹ میں معاون خصوصی نے مزید کہا کہ اس سال حکومت تقریباً ایک ہزار ارب روپے نان ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جس میں 200 ارب روپے سیلولر سیکٹر، 400 ارب روپے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع جات اور 300 ارب روپے آر ایل این جی پلانٹس کی نجکاری سے ملنے کی امید ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں