’ زرداری کے اثاثے فروخت کیے جائیں تو ہر شخص کے حصے میں 2 کروڑ روپے آئیں گے‘ - %Zardari %Pakistan %PPP %PPP %Sindh
The news is by your side.

Advertisement

’ زرداری کے اثاثے فروخت کیے جائیں تو ہر شخص کے حصے میں 2 کروڑ روپے آئیں گے‘

کراچی: سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے اثاثے فروخت کر کے رقم تقسیم کی جائے تو صوبے کے ہر شخص کے حصے میں 2 کروڑ روپے آئیں گے۔

ان خیالات کا اظہار اپوزیشن لیڈر سندھ نے اندرون سندھ دورے کے بعد کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اندورنِ سندھ میں حکومت نے کوئی قابلِ اطمینان اقدامات نہیں کیے، اسپتالوں، اسکولوں اور وہاں کے مکینوں کی حالت بہت بری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سانگھڑ کے اسپتال میں مریضوں کے لیے بستر تک میسر نہیں، وہاں مچھر مارنے کی مشین ناکارہ کھڑی ہے جبکہ مچھروں کی بہتات ہے، ایک ڈائیلاسسز کا وارڈ بہت اچھا لگا مگر معلوم ہوا کے وہ حکومت کے زیر انتظام نہیں بلکہ کوئی فلاحی ادارہ چلا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: نیب کی رپورٹ آنے تک سندھ کی حکومت چلے گی‘ فردوس شمیم نقوی

فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ 200بستروں کےاسپتال میں صرف46 نرسیں تعینات ہیں، ہر مریض کو ایک ہی دوائی دی جارہی ہے، ہم وزیرصحت کو دعوت دیتے ہیں وہ ساتھ چل کر ایک سرپرائز دورہ کریں پھر انہیں بھی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ’27 آدمیوں کو 11 لاکھ سے زیادہ تنخواہ دی جاتی ہے، اُن کی کوئی تربیت نہیں اور نہ کوئی انتظام ہے، اگر کوئی آگ لگ جانے کا حادثہ پیش آئے گا تو بجھائیں گے کیسے؟ فلٹرپلانٹ کے ٹینک کی حالت بھی بہت بری تھی ،ایک ٹوٹا اور 2 بالکل خالی تھے۔

انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاپا کی بہن نے صوبے کی حالت بری کردی، اگر صرف زرداری کے اثاثے فروخت کر کے اُن سے حاصل ہونے والی رقم سندھ کے عوام میں تقسیم کی جائے تو ہر شخص کے حصے میں کم از کم 2 کروڑ روپے آئیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں چوربیٹھے ہیں‘ فردوس شمیم نقوی

اسکولوں کی حالت زار بیان کرتے ہوئے فردوس شمیم نقویٰ کا کہنا تھا کہ ’ایسے تعلیمی ادارے بھی دیکھے جہاں بھینسیں بندھی ہوئی ہیں، جب 250 جانوروں کو اسکول میں باندھنے کی وجہ پوچھی تو معلوم ہوا دو سال پہلے سیلاب کی وجہ سے انہیں یہاں باندھا جبکہ وہاں مقیم افراد نے کہا غریب ہیں رہائش کا کوئی ٹھکانہ نہیں اس لیے یہاں مقیم ہیں‘۔

اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ اگر غریب ہیں تو اُن کے پاس بھینسیں ہیں اُن میں سے ہر ایک کی قیمت 2 لاکھ روپے ہیں، اسکول میں ملازمت کرنے والے استاد کے منہ میں گٹکا اور اُسے انٹرمیڈیٹ کی اسپیلنگ کا بھی علم نہیں تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں