The news is by your side.

Advertisement

گڈانی سے پُرتعیش ہوٹل تک، حفاظتی اقدامات صفر

کراچی میں ایک ماہ کے اندر تین بڑی آتشزدگی کے واقعات نے جہاں ہمارے ناقص نظام کی قلعی کھول دی ہے وہیں یہ بات بھی ثابت ہو گی کہ حادثات سے نمٹنے کے انتظامات نہ تو کسی دور ویرانے میں واقع غریب کی جائے روزگار میں ہیں اور نہ ہی کسی بڑے وفاقی ادارے کو اور نہ ہی فور اسٹار ہوٹل ان اہداف کو حاصل کر پایا ہے۔

ان واقعات سے پتہ چلا کہ کسی طبقاتی فرق کے بغیر گڈانی سے فور اسٹار ہوٹل تک انسانی جانوں کی قیمت یکساں نظر آتی ہے جب کہ سہولتوں کا فقدان بھی سستی ترین جگہ سے مہنگے ترین ہوٹل تک ایک سا تھا۔

پہلا واقعہ 4 نومبر کو گڈانی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے نے 23 غریب مزدوروں کی جان لے لی، شپ بریکنگ یارڈ میں ایک اسکریپ جہاز کی تور پھوڑ اور صفائی ستھرائی کے لیے ٹھیکے پر معمولی اجرت پر کام کرنے والے مزدووں کی خدمات لی گئی تھی، کسی حفاظتی اقدام کے بغیر غریب مزدور آئل ٹینک کی صفائی کے لیے اترے تو ایک دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی۔

 اسی سے متعلق : سانحہ گڈانی آتشزدگی، ہلاکتوں‌ کی تعداد 23 ہوگئی

شپ بریکنگ یارڈ تک ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور امدادی رضاکاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی کئی مزدور لقمہ اجل بن گئے جب کہ اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کا کام کرنے والے دیگر مزدور شدید زخمی ہو گئے، کئی جھلسے ہوئے مزدور آئل ٹینک سے خود ہی باہر آئے اور کسی مدد کے منتظر رہے۔

دوسرا واقعہ اپنی نوعیت کی واحد اور مرکزی بندرگاہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے آئل ٹرمینل پر 26 نومبر کو پیش آیا جس میں دو افراد جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوئے جب کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ آگ سے آئل ٹینک بھی پھٹ سکتا ہے جس سے بڑے پیمانے پر ٓگ بھڑک سکتی ہے جس پر قابو پانا نہایت دشوار ہو جائے گا۔

یہ پڑھیے : کے پی ٹی ٹرمینل پر آگ بھڑک اُٹھی،فیول ٹینک پھٹنے کا خدشہ 

اس آگ کو کے پی ٹی اور بلدیہ عظمی کراچی کے فائر ٹینڈرز نے دو دن بعد قابو پایا جب کہ تیسرے روز بھی کولنگ کا عمل جاری رہا۔

آتشزدگی کا تیسرا واقعہ 5 دسمبر کو مقامی پُر تعیش ہوٹل میں پیش آیا اوپری منزل میں لگی آگ کا دھواں اے سی ڈکٹس کے ذریعے تمام کمروں تک پہنچ گیا اور دم گھٹنے کے باعث 5 ڈاکٹرز اور 3 نرسوں سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ہوٹل آتشزدگی، جاں بحق افراد کی تعداد 13ہوگئی

توقع کے برعکس ہوٹل میں آتشزدگی سے نمٹنے کے موثر انتظامات نہ تھے لوگوں کا کہنا تھا کہ نہ تو ایمرجنسی الارم بجا اور نہ اسموک الارم نے اپنا کام کیا، داخلی راستوں کے نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں نے اوپری منزل سے چھلانگیں لگا کر اپنی جانیں بچانے کی کوشش کیں۔

ان تینوں واقعات نے میگا سٹی کراچی میں فائر فائٹنگ سروس کی ذبوں حالی اور دستیاب ناکافی انتظامات کی قلعی کھول دی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی کی آبادی دوکروڑ تک پہنچ چکی ہے اتنا بڑا شہر جو کئی ملکوں کے برابر آبادی رکھتا ہے، کے لیے کم از کم 206 فائراسٹیشن کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ اس شہرِ نا پرساں کے پاس صرف 22 فائر اسٹیشن ہیں۔

اسی طرح اتنی بڑی آبادی کے شہر میں محض 43 فائر ٹینڈرز ہیں جب کہ ضرورت 200 فائر ٹینڈرز کی ہیں اسی طرح مزید دس ہزار ماہر فائر فائٹرز کی ضرورت ہے۔

آتشزدگی کے واقعات کی ہولناکی کا اندازہ محض اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ٓتشزدگی کے واقعات میں 16500 لوگ جاں بحق اور 1،64،000 افراد زخمی ہو چکے ہیں جب کہ حکومت کو 400 بلین روپے کا مالی نقصان اُٹھا چکی ہے۔

اتنے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کے باوجود حکومت اب تک کوئی نیشنل فائرسیفٹی پلان مرتب نہیں دے سکی جب کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے دیئے گئے سفارشات پر بھی کوئی عمل در آمد نہیں ہو سکا ہے۔

کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے رہائشی اور تجارتی عمارتوں کی تعمیر کے قواعد مرتب کرتی ہے تا ہم نہ تو اس کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور نہ ہی اس پر عمل در آمد ہوپاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی سطح پر نیشنل فائر سیفٹی پلان اور جدید سہولیات سے آراستہ ماہر رضاکاروں پر مشتمل ریسکیو ادارہ تشکیل دیا جائے بنایا جائے تا کہ قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے سانحات سے سبق سیکھتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں