The news is by your side.

نیک سیرت اور عادل حکم راں سلطان فیروز شاہ تغلق

فیروز شاہ تغلق کو ان کے چچا زاد سلطان محمد بن تغلق کی وفات کے بعد سلطنتِ دہلی کا تاجدار قبول کیا گیا تھا۔ ان کا دورِ حکم رانی 1351ء سے 1388ء تک قائم رہا اور سلطان اس سال آج ہی کے دن وفات پاگئے تھے۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ فیروز شاہ، محمد بن تغلق کے چچا زاد بھائی تھے اور انھوں نے بیماری کے دوران سلطان محمد بن تغلق کی تیمار داری اور خوب خدمت کی، جس سے متأثر ہو کر سلطان نے انھیں اپنا جانشین نام زد کیا تھا۔ فیروز شاہ تغلق کا دور فلاحی کاموں اور رعایا کو ابتری اور بدانتظامی سے نجات دلانے کے ساتھ اسلامی تعلیمات اور اقدار کے احیا و فروغ کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔

فیروز شاہ تغلق کے والد کا نام رجب تھا جو سلطان غیاث الدّین تغلق کے بھائی تھے۔ نوعمری میں‌ فیروز شاہ اپنے والد کے سائے سے محروم ہوئے تو تغلق شاہ نے ہی ان کی تعلیم و تربیت اور پرورش کی تھی۔

مؤرخین نے فیروز شاہ کو عالم فاضل اور نیک سیرت حکم راں لکھا ہے جس کا دورِ‌ حکومت 40 سال پر محیط رہا۔ مشہور ہے کہ جب فیروز شاہ کو بادشاہ بننے کی اطلاع دی گئی تو اُس وقت وہ محمد بن تغلق کی موت پر ماتمی لباس پہنے ہوئے تھے۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ ‘فیروز شاہ نے ماتمی لباس اتارنے سے انکار کردیا اور شاہی لباس اس کے اوپر پہن لیا۔ سواری کے لیے ہاتھی آیا، ہاتھی پر جب وہ سوار ہوئے تو باجوں کا شور و غل تھا اور خوشی کے مارے خلقت آپے سے باہر ہوئی جاتی تھی۔ جیسے شادی کا ماحول ہو۔ بادشاہ ہاتھی پر سوار حرم میں گئے۔ اور وہاں جاکر خداوند زادہ کے قدموں پر سَر رکھا۔ اس نے سَر کو اٹھا کر اپنے گلے لگایا اور تاج، فیروز کے سر پر رکھا۔’

یحییٰ بن احمد سرہند اس امر کا ذکر کرتے ہیں کہ ’’بادشاہِ مغفور، محمد تغلق شاہ کے عہدِ سلطنت میں وجود میں آنے والی ہر طرح کی ستم گری، شقاوت، زیادتی، ملک تباہی و بربادی اور رعیّت کے اَمن و سکون اور راستوں کے امن وامان میں بدل گئی اور علماء و مشائخ کی تعداد اور فروغِ علم و فضل میں اضافہ ہوا۔‘‘

مؤرخین کے مطابق سلطان نے باغیوں کو وحشت ناک سزائیں نہ دینے کا جواز شریعت سے پیش کیا۔ فرشتہ کے بقول فیروز شاہ کہتا تھا کہ ’’مجھ سے پہلے کے بادشاہوں کی یہ کچھ عادت سی بن گئی تھی کہ معمولی معمولی جرائم پر اپنی رعایا یا اپنے ماتحت عملہ کو سخت سے سخت اور بیہودہ سے بیہودہ سزائیں دیا کرتے تھے۔ میرے نزدیک یہ سزائیں غیر مشروع بھی ہیں اور ظالمانہ بھی، میں نے یہ سب ممنوع قرار دے دیں اور بات بات پر مسلمانوں کا خون بہانا جرم ٹھہرایا۔‘‘ یہ فیروز شاہ تغلق کا ایک امتیازی وصف ہے کہ انھوں نے تخت کے حصول یا اس کے استحکام کے نام پر قتل و غارت گری نہیں کی۔

بعض روایات کے مطابق سلطان کے دور میں غریب والدین کی بیٹیوں کی شادی کے اخراجات بھی شاہی خزانے سے ادا کیے جاتے تھے۔ تغلق خاندان کے ایک مشہور مؤرخ سراج عفیف راوی ہیں کہ 38 سال میں ہزاروں غریب گھرانوں کی لڑکیوں کے نکاح اور شادی پر شاہی خزانے سے رقم خرچ کی گئی۔

سلطان فیروز شاہ ہندوستان کی تاریخ کے وہ مسلمان بادشاہ تھے جنھوں نے رفاہِ عام کی غرض سے دریاؤں سے تیس نہریں نکالیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زمین آباد ہو۔ جامع مساجد، سرائیں تعمیر کروائیں، شفا خانے اور تعلیمی ادارے قائم کیے۔ سلطان کے دور میں تقریباً دو سو شہر آباد کیے گئے جن میں جون پور، فیروز پور اور فیروز آباد بہت مشہور ہیں۔

سلطان فیروز شاہ تغلق صوفیائے عظام، مشائخِ کرام سے قلبی لگاؤ رکھتے تھے اور ان کے دور میں بعض علما اور درویشوں کو زمین وقف کرنے کے علاوہ وظائف بھی جاری کیے جاتے تھے۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع جونپور میں قدیم عمارتیں آج بھی اپنے دور کی یاد تازہ کریتی ہیں اور انہی میں سے ایک فیروز شاہ کا مقبرہ بھی ہے۔ یہ مقبرہ شہر کے محلہ سپاہ میں لبِ سڑک موجود ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں