The news is by your side.

Advertisement

کرتارپور راہداری کا ایک سال مکمل، بھارت کے سیکولرازم کا بھانڈا پھوٹ گیا

لاہور : بین المذاہب رواداری کی مثال کرتار پور راہداری کو کھلے ہوئے آج پہلا سال مکمل ہوگیا لیکن بھارتی حکومت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکھوں کو مذہبی تقریبات میں شرکت نہ کرنے دی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سکھ یاتریوں کی آمد کے لیے بنائی گئی کرتار پور راہداری کا افتتاح ہوئے آج برس پورا ہوگیا، اس موقع پر ممبر پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک سردار اندر جیت سنگھ نے حکومت پاکستان خصوصاً وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اندر جیت سنگھ کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ کرتار پور راہداری پاکستان میں تمام مذاہب کو میسر حقوق اور آزادی کی زندہ مثال ہے، یہ راہداری حکومت پاکستان کی جانب سے سکھوں کے لیے خصوصی تحفہ ہے، انہوں نے سکھوں کو مذہبی تقریبات ادا کرنے کا موقع دینے پر آرمی چیف کو ہیرو قرار دیا۔

واضح رہے کہ باباگرو نانک کی آخری آرام گاہ تک رسائی کیلئے کرتار پور راہداری گزشتہ سال نو نومبر کو کھولی گئی، پاکستان نے سکھوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے ویزا فری انٹری دی۔

دنیا بھر سے سکھ برادری مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے گور دوارہ کرتار پور آتی ہے جبکہ دوسری جانب نام نہاد سیکولر ریاست بھارت مسلسل کرتار پور راہداری کو ناکام بنانے کے درپے ہے، ہندوتوا کے پرچار نام نہاد سکیولر ملک بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔

سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کے سیکولرازم کا بھانڈا پھوٹ گیا،بھارتی حکومت نے سکھوں کو بابا گرونانک کی جنم دن کی تقریبات میں شرکت سے روک دیا، بھارت کی جانب سے کورونا وبا کو بظاہر بنیاد بنا کر سکھ یاتریوں کو روکا گیا ہے۔

سکھوں کے لیے مقدس مقام گوردوارہ کرتارپور ضلع نارروال میں واقع ہے۔ اس مقام پرسکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہ گوردوارہ لاہور سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل شکر گڑھ کے بھارتی سرحد پر گاؤں کوٹھہ پنڈ میں قائم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں