ڈچ حکومت نے پہلی مرتبہ مخنث کو جنسی شناخت والا پاسپورٹ جاری کردیا transgender-passport
The news is by your side.

Advertisement

ڈچ حکومت نے پہلی مرتبہ مخنث کو جنسی شناخت والا پاسپورٹ جاری کردیا

ایمسٹردیم : ہالینڈ کی عدالت نے مخنث کو جنس ظاہر کرنے کی اجازت دے دی، لیونی زیگرز پہلی ڈچ شہری ہیں جنہیں ان کی شناخت والا پاسپورٹ جاری کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی ملک ہالینڈ کی حکومت نے پاسپورٹ قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے پہلی مرتبہ کسی مخنث کو اس کی جنسی شناخت کے ساتھ پاسپورٹ کا اجراء کیا گیا ہے، ہالینڈ کی آبادی کے 4 فیصد افراد خود کو مرد سمجھتے ہیں نہ عورت۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ہالینڈ کی شہری 57 سالہ لیونی زیگرز پہلی مخنث ہیں جنہیں ڈچ حکومت نے ان کی جنسی شناخت والا پہلا پاسپورٹ جاری کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لیونی زیگرز قدرتی طور پر مخنث نہیں ہیں بلکہ لیونی پیدائشی طور پر لڑکا تھیں تاہم سنہ 2001 میں انہوں نے آپریشن کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کروائی تھی لیکن کچھ پیچیدگیوں کے باعث انہیں خود کو مخنث کہنا پڑا۔

برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ جنسی شناخت ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر عدالت عدالت میں اپیل دائر کی تھی اور ڈچ کورٹ نے لیونی زیگرز کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا، آسٹریلیا، ڈنمارک، کینیڈا سمیت متعدد ترقی یافتہ ممالک، بھارت اور پاکستان بھی مخنث کو اپنی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ رواں برس جون میں برطانوی ہائی کورٹ میں پاسپورٹ قوانین میں تبدیلی کے لیے مہم چلانے والے افراد کیس ہار گئے تھے، پاسپورٹ قوانین میں تبدیلی کے لیے مہم چلانے والے افراد کا مطالبہ تھا کہ پاسپورٹ میں مخنث کو جنس ظاہر کرنے کا حق دیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں