The news is by your side.

Advertisement

ہمارے نظام شمسی سے باہر پہلی بار اہم دریافت

ماہرین فلکیات نے پہلی بار ہمارے نظام شمسی سے باہر کسی سیارے کا مشاہدہ کیا ہے، نظام شمسی سے باہر سیاروں کو اب تک ان کی ثقلی امواج کے ذریعے دریافت کیا جاتا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ماہرین فلکیات کی جانب سے تاریخ میں پہلی بار نظام شمسی سے باہر کسی سیارے کا براہ راست مشاہدہ کیا گیا ہے اور اس کی اصل تصاویر لی گئی ہیں۔

اب سے قبل تک نظام شمسی سے باہر کسی سیارے (ایگزو پلینٹ) کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ثقلی امواج یا اس کے اثر سے سیارے کا پتہ لگایا جاتا تھا۔

جرنل آف ایسٹرونومی اینڈ ایسٹرو فزکس میں گزشتہ روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نظام شمسی سے باہر یہ سیارہ زمین سے 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے جو گیسی ستارے، بیٹا پِکٹورِس سی کے گرد گھوم رہا ہے۔

یہ سیارہ بہت نوا خیز اور سرگرم ہے جس کی عمر صرف 23 ملین سال ہے، اس سیارے کے گرد گیس اور گرد و غبار اب بھی موجود ہے جس کے ساتھ ساتھ کئی سیارے بھی موجود ہیں، اب تک ایسے دو سیارے دریافت ہو چکے ہیں۔

ماہرین فلکیات کی جانب سے پہلی بار براہ راست اس کی روشنی اور کمیت بھی نوٹ کی گئی ہے، اپنی نو عمری کی وجہ سے اس پر تحقیق کر کے سیاروں کی تشکیل کو بہت حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بھی ایگزو پلینٹ کو براہ راست نہیں دیکھا گیا ہے تاہم اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پہلی بار کسی سیارے کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں