The news is by your side.

Advertisement

اگر میرے جانے سے معیشت بہتر ہوتی ہے تو یہ بہترین فیصلہ ہے: استعفے کے بعد اسد عمر کا پہلا انٹرویو

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ان کے وزارت چھوڑنے سے ملک کی معیشت بہتر ہوتی ہے تو پھر یہ بہترین فیصلہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق استعفے کے فوراً بعد اسد عمر نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں پہلا انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’میرے وزارت چھوڑنے سے معیشت بہتر ہوتی ہے تو بہترین فیصلہ ہے، وقت بتائے گا کہ اس فیصلے سے معیشت بہتر ہوئی یا نہیں۔‘

انٹرویو کے دوران اس سوال پر کہ کیا آپ کو کارکردگی کی وجہ سے ہٹایا گیا، اسد عمر نے جواب دیا کہ ’اور کیا ہو سکتا ہے۔‘

سوال: کیا آپ کو کارکردگی کی وجہ سے ہٹایا گیا؟
جواب: تو اور کیا ہو سکتا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ استعفے کے سلسلے میں وزیر اعظم سے ان کی بات چیت رات کو شروع ہوئی تھی تاہم ملاقات صبح ہوئی، وزارت سے ہٹائے جانے کی باتیں پہلے سے تھیں مگر حتمی طور پر کل رات پتا چلا، وزیر اعظم سے ابتدائی بات چیت واٹس ایپ پر ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ پچھلے 8 ماہ سے جتنا کام کیا ہے اس سے بہت تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا، وزارت خزانہ مشکل کام ہے روزانہ کی ورزش کا بھی وقت نہیں ملتا تھا، مجھے 2 بار پارٹی کا سیکریٹری جنرل بننے کا کہا گیا لیکن میں نے منع کر دیا، جب عمران خان سے استعفے کی بات سنی تو اپنا اسٹریس لیول نیچے آتا دکھائی دیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا ’میں نہ تو مایوس ہوں نہ ہی غصے میں، استعفے کی خبر خود دینا چاہتا تھا، عمران خان سے بھی کہا، لیڈر شپ میں پسند نا پسند پر فیصلے نہیں ہوتے، عثمان بزدار اور میرا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، وہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں، وزیر اعظم نے دو سے تین نام بتائے تھے کہ یہ تبدیلی کر رہے ہیں، حفیظ شیخ کے ساتھ بہت کام کیا ہے نفیس انسان ہیں، بہ طور وزیر خزانہ کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم یہ کیا کر رہے ہیں۔‘

عثمان بزدار اور میرا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، وہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہو سکتا ہے آئی ایم ایف جانا میری وزارت چھوڑنے کی وجہ بنی ہو، امریکی سیکریٹری آئی ایم ایف کو تنبیہہ کر رہا تھا کہ پیسا چین کا قرض ادا کرنے کے لیے استعمال نہ ہو، آئی ایم ایف کے ساتھ نومبر اور آج کے معاہدے میں واضح فرق ہے، آج کا معاہدہ عوام اور پاکستان کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ 2 سال بعد عمران خان نے دوبارہ بلایا تو صورت حال دیکھیں گے، انکار کسی چیز سے نہیں مگر اپنے پروفیشنل ازم سے ہٹ کر کام کرنے کو تیار نہیں، ہوسکتا ہے کہ نئے وزیر خزانہ کے کہنے پر ایک نئی معاشی ٹیم آئے، اگر یہ کہا جائے کہ میری پوری ٹیم میں سب قابل تھے تو ایسا نہیں تھا۔

انھوں نے کہا ہم نے جو کام کیے کچھ اچھے ہوئے کچھ کے نتائج نہیں ملے، پارٹی میں اگر کسی نے اختلاف کیا تو میں نے کبھی مڑ کر بھی نہیں پوچھا، آئی ایم ایف کہتا تھا پاکستانی معیشت کے اتنے خطرناک حالات پہلے نہیں تھے، ہماری حکومت آنے کے بعد معیشت میں واضح اہداف کے اندر بہتری نظر آئی۔

ہو سکتا ہے آئی ایم ایف جانا میری وزارت چھوڑنے کی وجہ بنی ہو، امریکی سیکریٹری آئی ایم ایف کو تنبیہہ کر رہا تھا کہ پیسا چین کا قرض ادا کرنے کے لیے استعمال نہ ہو۔

اسد عمر نے کہا ’عمران خان نے مجھ سے کہا آپ سے فیصلوں میں مشورہ کرتا ہوں، میں نے جواب دیا اب بھی مشورہ لے سکتے ہیں کس نے منع کیا، میرا کابینہ میں ہونا بالکل بھی ضروری نہیں ہے، میں نہیں بتا سکتا کہ حکومت میں میرا کردار کتنا فعال ہوگا، میں اب بھی پارٹی اور حکومت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، وزارت خزانہ چھوڑی ہے مگر سیاست چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے 8 ماہ پورے ہو رہے ہیں، معیشت سے متعلق بلاول بھٹو کا بیان سیاسی ہے، ن لیگ اور پی پی کے پہلے 8 ماہ سے ہمارے 8 ماہ بہت بہتر ہیں، زیادہ تراعداد و شمار کے مطابق ہم نے بہتر کارکردگی دکھائی۔

ایمنسٹی اسکیم کی مخالفت سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسمبلی میں یہ نہیں کہا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم نہ دیں بلکہ تجاویز دی تھیں، ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے لوگوں کو سسٹم میں لانا چاہتے تھے، ایسی اسکیم سے اخلاقی نقصان ہی ہونا تھا جس کے بعد بھی لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے۔

اسد عمر نے کہا کہ اس وقت حکومت پر اپوزیشن کا دباؤ کم اپنی توقعات کا دباؤ زیادہ ہے، پی ٹی آئی حکومت انشاء اللہ 5 سال پورے کرے گی، 5 سے 6 لوگ ایسے ہیں جو پکا حکومت کے 5 سال تک رہیں گے، سب کو تکلیف ہے کہ میں کسی کیمپ میں کیوں نہیں ہوں، میرا صرف ایک ہی کیمپ ہے اور وہ عمران خان کیمپ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں