The news is by your side.

Advertisement

دنیا میں کرونا وائرس کی سب سے پہلی مریضہ صحتیاب ہوگئی

چین میں کرونا وائرس کا سب سے پہلے شکار ہونے والی مریضہ صحتیاب ہوگئی، مذکورہ خاتون ہوبیئی کی جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والی مارکیٹ میں کام کرتی تھیں۔

54 سالہ وئی گژنگ جنوری میں اسپتال سے رخصت ہوئی تھیں اور اب وہ مکمل طور پر صحتیاب ہونے کے بعد اپنے گھر جا چکی ہیں۔ انہوں نے 70 ہزار یان یعنی 8 ہزار 467 پاؤنڈز میڈیکل بلز کی مد میں بھرے۔

وہ ہوبیئی کی سی فوڈ مارکیٹ میں اسٹال لگاتی تھیں جہاں سے وہ اس وائرس کا شکار ہوئیں۔

وئی کو 10 دسمبر 2019 کو اس وائرس کی پہلی علامت ظاہر ہوئی تھی تاہم ڈاکٹرز نے انہیں معمولی نزلہ زکام قرار دے کر معمول کی دوائی دے دی۔ کچھ روز بعد وہ ایک اور نجی کلینک گئیں جہاں انہیں مختلف دوائیں دی گئیں۔

ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ انہیں پھیپھڑوں کی بیماری برونکائٹس ہوگئی ہے، وئی کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا لیکن ان کی حالت روز بروز بگڑتی چلی گئی۔ ڈاکٹرز نے ان کی حالت تشویشناک خیال کرتے ہوئے ان کی اینڈو اسکوپی اور حلق کے ٹیسٹ لیے۔

ابھی بھی ڈاکٹرز ان کی بیماری کے بارے میں اندھیرے میں تھے، اس کے بعد چند ہی ہفتوں کے اندر اسی علاقے سے مزید مریض سامنے آنا شروع ہوگئے جو وئی جیسی علامات کا ہی شکار تھے۔

صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ڈاکٹرز نے فوراً وئی کو قرنطینیہ میں منتقل کردیا جس کے بعد اب وہ مکمل طور پر صحتیاب ہو کر اپنے گھر لوٹ گئی ہیں۔

ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے وئی کا کہنا تھا کہ ان کے علاج پر ایک بھاری رقم خرچ ہوئی تاہم وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے اس سے کہیں زیادہ رقم خرچ کی لیکن وہ پھر بھی اپنی زندگی نہیں خرید سکے۔

وئی اب اپنے گھر پر ہیں تاہم ان کی بیٹی جو ایک ماہ بعد خود بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئی تھی، اس وقت ایک فیلڈ اسپتال میں موجود ہیں۔

وئی کے خیال میں انہیں اس موذی وائرس کے جراثیم اس ٹوائلٹ سے لگے جو ان کے اور مارکیٹ میں جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والے دیگر افراد کے مشترکہ استعمال میں تھا۔

ان کے مطابق ان کے قریب اسٹال لگانے والے دیگر افراد بھی اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے کچھ ان کی طرح صحتیاب ہوگئے اور کچھ جان کی بازی ہار گئے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں