The news is by your side.

Advertisement

تھر سے عام انتخابات میں حصہ لینے والی پہلی ہندو خاتون

مٹھی: صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر پارکر سے پہلی بار ایک ہندو خاتون رواں برس عام انتخابات میں حصہ لینے جارہی ہیں۔

30 سالہ سنیتا پرمار ضلع تھر پارکر کے علاقے اسلام کوٹ کی سندھ اسمبلی کی نشست حلقہ پی ایس 56 سے بطور آزاد امیدوار کھڑی ہورہی ہیں۔

سنیتا کا تعلق میگھواڑ برادری سے ہے جسے ہندو مذہب میں نچلی ذات سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تھر کی حالت زار کی ذمہ دار پیپلز پارٹی سمیت دیگر حکمران جماعتیں ہیں جو تھر والوں کو صحت اور پانی جیسی بنیادی سہولیات تک فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 10 سال سے حکومت میں رہی اور اس عرصے کے دوران کبھی گندم کی بوریوں، سلائی مشین اور کبھی بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ کے نام پر تھری خواتین کی بے عزتی کی جاتی رہی۔

سنیتا انتخاب جیت کر تھر کے بنیادی مسائل حل کرنا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آج سے قبل کسی بھی سیاسی جماعت نے تھر سے کسی خاتون کو الیکشن لڑنے کے لیے پارٹی ٹکٹ نہیں دیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ خواتین دیانت دار ہوتی ہیں اور وہ ان پارٹیوں کی کرپشن میں ان کا ساتھ نہیں دیں گی۔

مزید پڑھیں: تھر کی کرشنا کوہلی پہلی دلت سینیٹر بن گئیں

سنیتا کا علاقہ اسلام کوٹ ہندو اکثریتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے جن میں میگھواڑ، بھیل اور کوہلی برادری کا ووٹ بینک دوسروں کے مقابلے میں 70 فیصد ہے۔

سنیتا کی انتخابی مہم میں ان کے گھر والوں اور ہندو برادری نے ان کا ساتھ دیا اور پیسے جمع کر کے کاغذات نامزدگی کے اخراجات کو پورا کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں