The news is by your side.

Advertisement

ریو اولمپکس میں شریک پہلی بلوچ خاتون ایتھلیٹ

ریو ڈی جنیرو: برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں یوں تو کئی پاکستانی کھلاڑی شریک ہیں لیکن ایک پاکستانی کھلاڑی ایسی بھی ہے جو پاکستانی دستہ میں شامل نہیں۔

یہ کھلاڑی مادیہ غفور ہے جو پاکستانی نژاد ہے۔ وہ نیدر لینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی۔ مادیہ کے والدین کا تعلق کراچی کے شہر لیاری سے ہے اور وہ لیاری کے ایک سیاسی کارکن لعل بخش رند مرحوم کی پوتی ہے۔

ریو اولمپکس 2016 میں 23 سالہ مادیہ نیدر لینڈز کی نمائندگی کر رہی ہے۔ وہ پہلی بلوچ خاتون ہے جو کسی اولمپک کے مقابلوں میں شرکت کر رہی ہے۔

Madiea 2

مادیہ اپنے اس ریکارڈ کے بارے میں بے خبر تھی۔ وہ کہتی ہے، ’جب مجھے پتہ چلا کہ میں اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے والی پہلی بلوچ لڑکی ہوں تو میرے جوش و جذبہ اور خوشی میں اضافہ ہوگیا۔ میرا اس مقام تک پہنچنا بلوچ نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے پر مہمیز کرے گا‘۔

مادیہ 13 سال کی عمر سے دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لے رہی ہے۔ وہ اس سے قبل ایسٹونیا میں ہونے والی یورپین ایتھلیٹکس جونیئر چیمپئن شپ میں برانز میڈل حاصل کر چکی ہے جہاں وہ 400 میٹر ریس کی دوڑ میں تیسرے نمبر پر آئی۔

مادیہ ہفتہ کے 6 دن ٹریننگ کرتی ہیں جبکہ ساتواں دن 2 بار جم میں گزارتی ہے۔

نوجوانوں کے لیے اس کا پیغام ہے، ’اپنے خوابوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کرو‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں