The news is by your side.

Advertisement

پشاورکا انوکھا مچھلی گھر حکومتی توجہ کا منتظر

پشاور :عوام کی دلچسپی کے لیےسن 2009 میں بنایا گیا مچھلی گھر اب اپنی حکومتی عدم توجہی کے سبب خستہ حالی کی منظر کشی کر رہا ہے۔

پاکستان میں 500 سے زائدا نواع کی مچھلیاں زیر سمندر،تازہ پانی اور جھیلوں میں اپنے رنگ بکھیرتے اور جاذب نظر اشکال میں پائی جاتی ہیں ا ن میں سے بہت سی اقسام کو دیگر  ممالک میں برآمد بھی کیا جاتا ہے اور ملکی آمدن میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے ۔

1

2

پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری نے ایک مچھلی کی کئی اقسام دریافت کی ہیں جو پانی کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہیں یہ مچھلی صوبہ خیبر پختونخوا کے ڈسٹرکٹ نوشہرہ میں نباتاتی گارڈن کو پودوں کی حفاظت کے سینٹر کی نالیوں میں سالانہ صفائی اور کھدائی کے دورانملی ہیں ایسی مچھلیاں اس سے قبل پاکستان میں رپورٹ نہیں ہوئی ہیں۔

10

علاوہ ازیں پشاورکے مچھلی گھر میں ان کے علاوہ مزید دلکش رنگوں والی چالیس سے زائد اقسام مچھلیاں موجودہیں ان میں بیرون ممالک سے منگوائی گئی ، سلور شارک، نائٹ فش، کیٹ فش، ٹائیگر فش اور دنیا کی سب سے چھوٹی چائینہ سے منگوائی گئی گپی بھی موجود ہے جبکہ محکمہ فشریز نے محنت کے ساتھ گپی اور مولی کی بریڈنگ پر بھی کمال حاصل کیا ہے ان خوبصورت مچھلیوں کے ساتھ چائینہ سے منگوائی گئے اعلٰی نسل کے کیچوے بھی اس مچھلی گھر کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔

8

یہ مچھلی گھر تفریح کے ساتھ ساتھ طلبہ کی معلومات میں اضافہ کے لیے 6سال قبل بنایا گیا تھا تاہم اب یہ خستہ حالی کا شکار بنتا جا رہا ہےاور اس کی زبوںحالی کی بڑی وجہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی ہے جس کے باعث قدرت کا شاہکار ان مچھلیوں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہیں ۔

5

6

فش ہاوٗس میں مچھلیوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے تجربہ کار عملہ اور ڈاکٹر تک موجود نہیں ان نا مصائب حالات کے باوجود محکمہ فشریز کے اہلکار اسے مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انکی نگہداشت کا ذمہ خود اپنے کندھوں پے اٹھائے ہوئے ہیں۔

محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فواد خلیل کے مطابق محکمہ فنا نس اور سی این ڈبلیوسے اسکی سالانہ بجٹ اور فش ہاوس کی ری انسٹالیشن کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور اس حوالے سے ایک پروپوزل بھی پیش کر دیا گیا ہے،
یہاں یہ بات قابل بیان ہے کہ 2009 میں یہ مچھلی گھر 75لاکھ سے زائدرقم کی لاگت سے بنایا گیاتھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں