The news is by your side.

Advertisement

ذہنی نشوونما میں’فش آئل‘ کا کردار، حقیقت یا افسانہ ؟

آسٹریلیا : جدید طبی تحقیق نے حمل کے دوران مچھلی کے تیل سے تیار کردہ ادویات کا استعمال بچے کی ذہنی نشوونما میں بہتری لانے کے تاثر کو غلط ثابت کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں ایک طبی تحقیقی ادارے نے جدید تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ مچھلی کے تیل کا دورانِ حمل استعمال سے بچے کی ذہنی نشوونما میں اضافے کا باعث نہیں ہوتی ہے لہذا اس کے استعمال کی ضرورت نہیں بلکہ دوران حمل متوازن غذا ہی استعمال کی جانی چاہیئے۔

oil-post-1

ساؤتھ آسٹریلین ہیلتھ اینڈ میڈیکل ریسرچ کے تحت کی گئی تحقیق سے واضح طور پر پتہ چلا ہے کہ دوران حمل بچے کی ذہنی نشوونما میں مچھلی کے تیل کا کوئی کردار نہیں ہے اس حوالے تمام تر تاثر غلط اور صرف دوا فرش کمپنیوں کی مارکیٹنگ مہم کے سوا کچھ نہیں ہے اس لیے صرف متوازن غذا کو اپنایا چاہیئے۔

oil-post-2

یاد رہے مچھلی کے تیل سے تیار کردہ کیپسول بہ طور دوا حاملہ خواتین کو استعمال کروایا جاتا رہا ہے جس کے لیے دوا فروش کا دعوی ہے کہ کہ یہ دوا بچوں کے ذہنی نشوونما میں اضافہ کا باعث بنتی ہے جسے جدید تحقیق نے یکسر مسترد کردیا ہے اور اسے محض تشہیری مہم قرار دیا۔

واضح رہے پاکستان حاملہ خواتین کی دوران زچگی انتقال کرجانے اور نوزائیدہ بچوں میں خوراک کی کمی کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے اور دیہات میں یہ صورت حال زیادہ گھمبیر ہے ایسی صورت حال میں متوازن غذا کے بجائے مصنوعی خوارک کا استعمال مذید نقصان کا باعث بنتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں