The news is by your side.

Advertisement

ماہی گیروں نے کراچی پورٹ چینل سے 2 ہزار سے زائد لانچیں ہٹا دیں

کراچی: ماہی گیروں نے مذکرات کے بعد 2 ہزار سے زائد لانچیں ہٹا دیں، کراچی پورٹ کا چینل جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھل گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزارت بحری امور اور ماہی گیر تنظیموں کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا، کراچی پورٹ کے چینل سے ماہی گیروں نے لانچیں ہٹا دیں۔

کراچی پورٹ پر 2 ہزار سے زائد لانچوں نے چینل بلاک کیا ہوا تھا، وزیر اعظم کے مشیر برائے بحری امور محمود مولوی نے کہا کہ ماہی گیروں کی لانچیں ہٹنے کے بعد پورٹ آپریشن بحال ہو گیا، چینل مکمل خالی ہونے کے بعد جلد ہی جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو جائے گی۔

ماہی گیروں اور وزارت بحری امور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے درمیان مذاکرات کے بعد

رپورٹ کے مطابق ماہی گیروں نے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی پر چینل کھولا ہے، انھوں نے گزشتہ 28 گھنٹوں سے چینل بند کیا ہوا تھا، جس کی وجہ سے 10 جہازوں کی آمد و رفت مکمل بند ہو گئی تھی، اور کراچی پورٹ سے کسی جہاز کی روانگی اور آؤٹر چینل سے جہاز برتھ ہونے کے لیے نہیں آیا تھا۔

آئل ٹرمینل کو بزور طاقت آج کھول دیا جائے گا، مشیر وزیراعظم

وزیر اعظم کے مشیر برائے بحری امور محمود مولوی نے مذاکراتی ٹیم کو ان کے جائز مطالبات متعلقہ اداروں سے حل کرانے کی یقین دہانی کرائی، جس پر ماہی گیر سمندری دھرنا ختم کرنے پر تیار ہوئے۔

وزارت بحری امور نے آج بڑا فیصلہ کر لیا تھا، محمود مولوی نے کہا تھا کہ ماہی گیروں سے حتمی مذاکرات شروع کر رہے ہیں، اگر انھوں نے مذاکرات کے ذریعے چینل نہ کھولا تو پھر طاقت کے ذریعے آج شام تک چینل کو بحال کر دیا جائے گا۔

کے پی ٹی ذرائع کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار کراچی پورٹ کا چینل اتنی دیر کے لیے بند ہوا، جس سے ملک کی تمام امپورٹ ایکسپورٹ مکمل طور پر رک گئی، گزشتہ روز سے اب تک 16 جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی، چار ٹینکر، 3 کنٹینر جہاز، 1 گندم، 1 چاول، 3 کلنکر، 1 فرٹیلائز اور سیمنٹ کے جہاز وں کہ آمد و رفت متاثر ہوئی۔

چینل کی بندش پر چیئرمین کے پی ٹی نادر ممتاز سے بھی اس حوالے سے باز پرس کی گئی کہ جب اطلاعات تھیں تو پہلے سے احتیاطی تدابیر کیوں نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ ماہی گیروں نے بلوچستان کے پانیوں میں ماہی گیری پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کراچی پورٹ کا شپنگ چینل بلاک کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں