The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات، عالمی ادارے کی مایوس کن رپورٹ

اسلام آباد: امریکی ریٹنگ ایجنسی فچ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا اور عالمی معاشی سست روی کی وجہ سے پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں ترسیلات زر دباؤ کا شکار رہیں گی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جائے گا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی ریٹنگ ایجنسی فچ کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں ترسیلات زر دباؤ کا شکار رہیں گی، رواں ششماہی ایشیا پیسیفک ممالک کی ترسیلات زر میں 12 فیصد کمی آئے گی۔

فچ ریٹنگز کا کہنا ہے کہ فلپائن، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا امکان ہے، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7 سے 10 فیصد تک متوقع ہے۔

اس سے قبل ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا، 3 ماہ میں 15 لاکھ نوجوان بے روزگار ہوئے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ 6 ماہ میں 22 لاکھ سے زائد نوجوان بے روزگار ہوسکتے ہیں۔

اس سے قبل عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی معاشی شرح نمو میں بھی کمی کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کی معاشی شرح نمو 2.5 فیصد رہے گی۔

دسمبر 2019 میں موڈیز نے پاکستان کی معاشی شرح نمو 2.9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی تاہم کرونا وائرس نے معاشی سرگرمیاں ماند کردیں۔

موڈیز نے چین، جاپان، ملائیشیا، ویتنام، فلپائن، ہانگ کانگ، سنگا پور اور نیوزی لینڈ کی معاشی شرح نمو میں بھی کمی ہونے کی پیشگوئی کی تھی، موڈیز کے مطابق کمی کی وجہ طلب میں کمی، کراس بارڈر ٹریڈ اور سپلائی چین میں تعطل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں