اتوار, مئی 10, 2026
اشتہار

فاطمہ بیگم: ہندوستان کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر

اشتہار

حیرت انگیز

خاموش فلموں کی ابتدا بھی پرکشش اور سحر انگیز تھی۔ مرد تو فلم ساز اور ہدایت کار تھے ہی مگر خواتین بھی اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر آزما رہی تھیں۔ ایسی ہی ایک خوبصورت اور باصلاحیت فن کارہ تھیں فاطمہ بیگم۔ انھیں ہندوستانی فلموں میں پہلی خاتون ہدایت کار ہونے کا فخر حاصل ہے۔

ان کی شادی نواب آف سچن سے ہوئی تھی ۔ (گمان اغلب ہے کہ گجرات کی کوئی چھوٹی ریاست ہوگی) محلات کی زندگی اور شان و شوکت میں رہ کر زندگی کا بہترین وقت گزارا۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں جو آگے چل کر انڈین فلموں کی کام یاب اور نام ور اداکارائیں بنیں

فاطمہ بیگم نے اس دور میں فن کی باگ ڈور سنبھالی جب فلموں نے اپنے وجود کی انگلی تھامی ہی تھی۔ ان پر محل سے کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔ اسٹیج ڈراموں سے انھوں نے اپنے جوہر آزمائے اور پھر فلموں سے جڑ گئیں۔ اردشیر ایرانی اور بھوگی لال دوے اپنی اسٹار فلم کمپنی ممبئی میں قائم کر چکے تھے اور اپنی پہلی دیو مالائی دھارمک فلم بنانے کی تیاری میں تھے۔

1922ء میں بنی فلم "ویرا بھی مینو” میں اردشیر ایرانی نے فاطمہ بیگم کو ہیروئن کاسٹ کر لیا۔ فلم تو زیادہ نہیں چلی لیکن فاطمہ بیگم پردے سے اتر کر دلوں میں گھر کر گئیں۔ فاطمہ بیگم نے اپنی فن کاری سے بہت کچھ حاصل کیا۔ وہ کوہِ نور فلم کمپنی کی فلموں کی بھی ہیروئن بنیں اور 1926ء میں جب اردشیر ایرانی نے اپنا ذاتی فلم ادارہ ایمپریل فلمز کمپنی بمبئی کی داغ بیل ڈالی تو وہ ایمپریل کی فلموں میں بھی جلوہ گر ہوئیں اور 1926ء میں ہی انھوں نے فاطمہ فلم کمپنی کے نام سے اپنی ذاتی فلم کمپنی قائم کر لی جو 1928ء میں وکٹوریہ فاطمہ فلمز کی مشترکہ فلم کمپنی بن گئی۔ 1922ء سے 1926ء تک انھوں نے بطور اداکارہ فلموں میں کام کیا۔ 1926ء میں اپنی ذاتی فلموں کی ہدایت کاری کے لیے مرد ہدایت کاروں کی خدمات حاصل کیں۔ اس دوران وہ ہدایت کاری کی کو سمجھتی رہیں۔ 1926ء میں جب ان کی کمپنی مشترک ہوئی تو اس کمپنی کی پہلی فلم "بلبل پرستان” کی ہدایت فاطمہ بیگم نے خود دی اور اس طرح وہ انڈین فلموں کی پہلی ہدایت کار بن کر فلمی تاریخ کا عہد ساز حصہ بن گئیں۔

فاطمہ بیگم نے اپنی تمام فن کارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ خاموش فلموں کے اس دور میں وہ نہ صرف اسکرپٹ کو اہمیت دیتی تھیں۔ بلکہ کیمرے کے عقب میں رہ کر فلم کے سیٹ اپ اور اینگل پر بھی دھیان مرکوز رکھتی تھیں۔ انھوں نے کل سات فلموں میں‌ ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے اور یہ فلمیں بے حد پسند بھی کی گئیں۔ فاطمہ بیگم بہت جہاں دیدہ خاتون تھیں۔ انھوں نے وقت کی نزاکت اور ہوشربا دور کو ایک ماہر کھلاڑی کی نگاہ سے پرکھ کر اپنی تین بیٹیوں کو بھی فلموں میں پیش کر دیا اور وہ تینوں بیٹیاں اپنی خوبصورتی، جوانی اور فن کے تیر و تفنگ لے فلموں میں ایسی اتریں کہ ہوش و خرد پر قابض ہوتی چلی گئیں۔

بولتی فلموں کا دور آیا تو فاطمہ بیگم کیریکٹر اداکارہ بن چکی تھیں اور مذکورہ فلموں میں انھوں نے سپورٹنگ رول ہی کیے۔ وہ بڑی صلاحیتوں کی مالک خاتون تھیں۔ ایمپریل اور کوہ نور کمپنیوں نے ان کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدے اٹھائے۔ وہ نہ صرف اداکاری اور ہدایت کاری میں ماہر تھیں بلکہ کمپنیاں اُن سے اسکرپٹ رائٹنگ، فلم سازی اور ہدایت کاری جیسے اہم امور میں بھی مدد لیا کرتی تھیں۔ 1884ء میں فاطمہ بیگم کی پیدائش ہوئی تھی اور 73 سال کی عمر پا کر 1957ء میں انتقال کر گئیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں