The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ نے روس پر پابندیاں عائد کر دیں

برطانیہ نے یوکرین کے کشیدگی کی وجہ سے پانچ روسی بینکوں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی جانب سے پابندیوں کو اعلان روس کے مشرقی یوکرین کے دو حصوں میں فوجی دستے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے روس پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا کہ روسی پر یہ پابندیاں پہلے مرحلے میں لگائی گئی ہیں جب کہ مزید پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں، ہماری کوشش ہوگی کہ آخر لمحے تک یوکرین کا معاملہ سفارتی حل سے ختم ہو۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم نے پانچ بینکوں کے علاوہ تین ارب پتی افراد پر بھی پابندیاں لگائی ہیں جن میں گنیڈی تمشینکو، بورس روٹنبرگ اور ایگور روٹنبرگ شامل ہیں۔

ان افراد کے برطانیہ میں تمام اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور ان افراد کی برطانیہ آمد پر بھی پابندی ہوگی، برطانوی شہریوں پر ان افراد اور بینکوں سے لین دین پر مکمل پابندی ہوگی۔

دوسری جانب جرمنی نے روس کے ساتھ گیس پائپ لائن کے سب سے بڑے منصوبے ہو روک دیا ہے۔

یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں کو روس کی جانب سے آزاد ریاستیں تسلیم اور فوج بھیجنے پر مشرقی یورپ میں جنگ کے خطرات بڑھنے لگے ہیں۔ یوکرینی صدر نے روس کی جانب سے علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پر روس سے تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

یوکرین کے صدر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ روس کے اقدام کے بعد تعلقات بھی ختم کرسکتے ہیں، ملک امن کے لیے پُرعزم ہے مگر یہ ہماری سرزمین ہے کسی کو کچھ نہیں دیں گے، کسی سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ یوکرین علیحدگی پسند علاقوں دونیتسک اور لوہانسک کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے کے بعد روسی فوج کے دستے ان علاقوں میں داخل ہوسکیں گے۔ لوہانسک اور دونیتسک یوکرین سے علیحدگی کے خواہش مند ہیں اور یہاں روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کا کنٹرول ہے۔

روس کے اس اقدام کی فرانس، جرمنی اور امریکا شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جب کہ یورپی یونین کی جانب سے علیحدگی پسند ریاستوں پر پابندیاں لگانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوآن نے روس کی جانب سے یوکرین کے دو علاقوں کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین عالمی قوانین کا احترام کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں