The news is by your side.

Advertisement

بھارت : انسانی اسمگلنگ کے خلاف مہم چلانے والی 5 خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار

دہلی : بھارتی ریاست جھارکنڈ میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف آگاہی مہم چلانے والی نجی ادارے کی پانچ خواتین کو اجتماعی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست جھارکنڈ میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف آگاہی مہم چلانے والی پانچ خواتین کارکنوں کے اسلحے کے زور پر اغوا کرنے کے بعد اجتماعی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بھارت میں پانچ عورتوں کے ساتھ زیادتی کا واقعہ 19 جون کو ضلع کھونٹی میں پیش آیا تھا، ضلع کے پولیس سپرینٹنڈنٹ اشونی کا کہنا ہے کہ خواتین کی جانب سے اجتماعی زیادتی کیے جانے کی رپورٹ درج روائی ہے۔

پولیس سپرینٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ خواتین کی جانب سے زیادتی کی شکایت درج کروانے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، تاہم اب تک واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس ترجمان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خواتین انسانی اسمگلنگ کے خلاف علاقے میں آگاہی مہم چلارہی تھی، اس دوران موٹرسائیکل پر سوار افراد انہیں اسلحے کے زور پر اغوا کرکے لے گئے۔

متاثرہ خواتین نے پولیس کو بیان دیا کہ اغوا کندگان نے ہمیں اغوا کے بعد قریبی جنگل میں لے جاکر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

بھارتی پولیس کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے سلسلے میں 11 افراد پر مشتمل ٹیم کوچانگ گئی تھی۔ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے تمام خواتین پولیس کے حفاظتی مرکز میں محفوظ ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق اعلیٰ افسران نے المناک واقعے کی تحقیقات کے لیے 3 ٹیمیں تشکیل دی ہیں، فی الحال کسی کی گرفتاری سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ واقعے میں ’پتھل گڑھی‘ تحریک کے کارکنان ملوث ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ’پتھل گڑھی‘ تحریک گاؤں کے مقامی افراد چلا رہے ہیں، تحریک کے مقاصد بھارتی حکومت کی فرمانروائی کو قبول نہ کرنا اور اپنی پنچایت کو مقتدر مانا ہے، اور اس تحریک کے تحت گاؤں کے باسیوں کے علاوہ باہر کے افراد کے داخلے پر پابندی ہے۔

متاثرہ خواتین کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے 4 گھنٹے پر اپنی تحویل میں رکھا اور مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور واقعے کو موبائل سے فلمایا بھی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں