آلودگی سے بچانے والی نئی ایجادات پر پاکستانی ںوجوانوں کا اقوام متحدہ معترف UNIDO
The news is by your side.

Advertisement

آلودگی سے بچانے والی نئی ایجادات پر اقوام متحدہ پاکستانی ںوجوانوں کا معترف

اسلام آباد : اقوام متحدہ کی تنظیم برائے صنعتی ترقی (UNIDO) نے صفائی اور توانائی کے بچاؤ سے متعلق نئی مشینریاں ایجاد کرنے پر 5 پاکستانی کمپنیوں کو نوازا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ ایوارڈز گلوبل کلین ٹیک انوویشن پروگرام (GCIP) کے تحت ایک پُر وقار تقریب میں دیے گئے جس کا انعقاد دارالحکومت اسلام آباد میں کیا گیا تھا جس میں وفاقی سیکرٹری برائے ماحولیات نے بہ طور مہمان خصوصی شرکت کی۔

گلوبل کلین ٹیک انوویشن پروگرام کے تحت 5 مختلف پاکستانی کمپنیوں کو ماحولیاتی صفائی اور توانائی کے بچاؤ سے متعلق نئ ایجادات متعارف کرانے پر دیے گئے ہیں۔

پہلا انعام پاکستانی کمپنی کو کم قیمت ’ قدرتی توانائی کو موثر طریقے سے استعمال کرنے والے مکانات‘ ( Energy Efficient Houses) کا ماڈل پیش کرنے پر دیا گیا جس کےذریعے انسولیشن کے ذریعے قدرتی روشنی، ہوا اور درجہ حرارت کو موثر طور پر استعمال کر کے توانائی کی مد میں استعمال ہونے والے اخراجات سے بچا جا سکتا ہے۔

دوسرا انعام ایک ایسی کمپنی کو دیا گیا جس نے بجلی سے چلنے والی پانی کی موٹرز اور فلور ملز کو چلانے کے لیے شمسی توانائی کے استعمال کے لیے ایسا نظام ایجاد کیا جو دور دراز دیہاتوں میں نہایت کار آمد ہوگا اور نہایت ارزاں قیمت پر دستیاب ہوگا۔

تقریب کی سب سے امید افزاء بات اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی خواتین پر مشتل ٹیم کا انعام جیتنا تھا جنہوں نے شمسی توانائی سے آراستہ گاڑیاں یا ٹھیلے متعارف کرائے جس سے دور دراز علاقوں یا سڑکوں کے کنارے پہنچایا جا سکے گا اور یوں چلتی پھرتی اور روشنی پھیلاتی ایجاد کافی کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب سے اس سال دو نئے ایوارڈز کا آغاز بھی کیا گیا جس میں سے ایک صنعتوں میں پیدا ہونے والے فالٹس کا پتہ چلانے والا خود کار سسٹم متعارف کرانے والی کمپنی اور دوسرا ایوارڈ پرانی بیٹریوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے پروجیکٹ تیار کرنے والی کمپنی کو دیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری برائے ماحولیات سید ابو احمد عاکف نے کلین ٹیکنالوجی کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فطری توانائی آرٹیفیشل توانائی کی وجہ سے ماحول کو درپیش خطرات کو کم کرنے میں کارگرت ثابت ہو سکتی ہے اس لیے اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں