The news is by your side.

Advertisement

جمہوری حکومت کے پانچ برس پر ایک نظر

حکومت کا زیادہ وقت شریف خاندان کے خلاف جاری بدعنوانی کے کیسز کے دفاع میں صرف ہوا

ملک میں ایک اور جمہوری حکومت نے پانچ برس مکمل کر لیے، 2013 میں اقتدار سنبھالنے والی ن لیگ کی حکومت گوناگوں مسائل کے باوجود 2018 تک اقتدار میں رہی.

مجموعی طور پر حکومت کا زیادہ وقت شریف خاندان کے خلاف جاری بدعنوانی کے کیسز کے دفاع میں صرف ہوا، معیشت، توانائی، پانی کے مسائل پوری طرح حل نہ ہوئے، عدلیہ دباؤ سے آزاد اور متحرک نظر آئی، فوج نے دہشت گردی کے خاتمے پر توجہ مرکوز رکھی۔

اس رپورٹ میں‌ جمہوری حکومت کے پانچ برس کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے.


ان پانچ برسوں میں ہیوی مینڈیٹ لے کر آنے والی مسلم لیگ ن کو کئی مسائل درپیش رہے، جس کی ابتدا پی ٹی آئی کے دھرنوں سے ہوئی.

دوسرا بڑا بحران پاناما لیکس تھا، جو حکومت کے لیے سم قاتل ثابت ہوا. نوازشریف پاناما کیس میں خود پر عائد کیے جانے والے الزامات کو غلط ثابت کرنے میں‌ناکام رہے، جس کے نتیجے میں‌ وہ نہ صرف وزیر اعظم کے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے، بلکہ پارٹی صدارت سے بھی گئے اور تاحیات نااہل ہوئے.

ان مسائل کے باعث حکومت ملک کو درپیش معیشت، پانی اور توانائی کے مسائل حل کرنے سے بھی قاصر رہی اور آخر تک لوڈشیڈنگ نے حکومت کا پیچھا نہیں چھوڑا.

حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم نے بھی مسائل کو جنم دیا اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک آخر تک برقرار رہا. اس دوران ریاستی اداروں پر منتخب میڈیا کے ذریعے حملے بھی کیے گئے، ممبئی حملےمیں بھارتی موقف کی تائید کی گئی.

پی ٹی آئی نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا، ڈی چوک، اسلام آباد پر دھرنا چار ماہ سے زائد عرصے جاری رہا، جو بالآخر سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ختم ہوا.

حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم نے بھی مسائل کو جنم دیا اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک آخر تک برقرار رہا.

پاناما لیکس پر پی ٹی آئی نے پھر دھرنے کی راہ چنی، آخر حکومت نے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا، جے آئی ٹی بنائی گئی، جس کے نتیجے میں ن لیگ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا. البتہ پی ٹی آئی کو خود بھی کے پی میں انتظامی معاملات پر تنقید کا سامنا رہا۔

فوج نے ان پانچ برس میں‌ دہشت گردی کے خاتمے میں اپنا موثر کردارادا کیا، فوجی قیادت نے جمہوری تسلسل کے لیے اپنا مکمل آئینی تعاون فراہم کیا.

چیف آف آرمی اسٹاف جمہوری عمل کی غیرمتزلزل حمایت کے لیے پارلیمنٹ بھی گئے، دفاعی سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کی موثر ترجمانی کی، سی پیک سے متعلق منصوبوں کو درست سمت میں جاری رکھا.

کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، احسان اللہ احسان کا ہتھیار ڈالنا اور کراچی اور بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال میں‌ بہتری فوج کی بڑی کامیابی ہے.

عدلیہ نے ان برسوں میں‌ موثر کردار ادا کیا۔ بالخصوص چیف جسٹس ثاقب نثار کے عہدے سنبھالنے کے بعد جیوڈیشل ایکٹو ازم کی تجدید ہوئی اور کئی اہم کیس میں بڑے فیصلے سامنے آئے.


قومی اسمبلی تحلیل ہونے کا نوٹی فکیشن جاری


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں