احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس پر سماعت کل تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس پر سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک نے کی۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف احتساب عدالت میں موجود رہے۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کا بیان آج دوسرے روز بھی قلمبند کیا گیا۔

استغاثہ کے گواہ نے سماعت کے آغاز پر قطری شہزادے کا عدالت کو لکھا گیا خط احتساب عدالت میں پیش کیا جس پرنوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آفاق احمد جب عدالت میں پیش ہوئے انہوں نے یہ خط نہیں دکھایا۔

واجد ضیاء نے جے آئی ٹی سربراہ کی جانب سے حماد بن جاسم کولکھا گیا خط اور دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے سے سعدیہ گوہرکا دفترخارجہ کولکھا گیا خط بھی عدالت میں پیش کیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے احتساب عدالت کو بتایا کہ سعدیہ گوہرنے اپنے خط کے ساتھ قطری شہزادے کا خط بھیجا۔

استغاثہ کے گواہ نے عدالت میں 24 مئی 2017 اور 6 جولائی 2017 کا لکھا گیا خط پیش کیا، انہوں نے بتایا کہ 6 جولائی 2017 کودفترخارجہ کے آفیشل ای میل اکاوئنٹ پرموصول ای میل کے ساتھ قطری شہزادے کا جےآئی ٹی کولکھا گیا خط بھی منسلک تھا۔

واجد ضیاء نے قطری شہزادے کے ساتھ خط وکتابت کی رپورٹ اورڈیلوری رپورٹ، فلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ کی 2002 سے 2016 کی فنانشل اسٹیٹمنٹ عدالت میں پیش کیں۔

احتساب عدالت کے معزز جج نے گزشتہ روز سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ نے اس کے بعد مزید وقت نہ دینے کا کہا ہے۔

خواجہ حارث نے واجد ضیاء کی جانب سے طارق شفیع کا بیان حلفی پیش کرنے پراعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ طارق شفیع نہ اس کیس میں گواہ ہیں نہ ہی ملزم ہے۔

نوازشریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ طارق شفیع کا بیان حلفی قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں، طارق شفیع کا بیان حلفی شہادت کے طورپرپیش نہیں کیا جاسکتا۔

واجد ضیا نے نواز شریف کی کیپٹل ایف زیڈ ای میں ملازمت کا بھی ریکارڈ پیش کردیا۔ دستاویزات میں جفزا اتھارٹی کا تصدیقی خط اور ملازمت کے معاہدے کی کاپی شامل ہے۔

دستاویزات میں نواز شریف کو تنخواہ ادائیگی کا اسکرین شاٹ بھی شامل ہے۔ خواجہ حارث کی جانب سے دستاویزات پر اعتراض لکھوا دیا گیا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ دبئی جانے والے جے آئی ٹی ممبران کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، جفزا اتھارٹی کے خط پر دستخط کرنے والے کا بھی بیان قلمبند نہیں کیا گیا جبکہ پیمنٹ شیٹ کے اسکرین شاٹ پر کسی کے دستخط نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دستاویزات کو بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت میں کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹس کی نواز شریف کےخلاف ریفرنس نمٹانے کیلئےاحتساب عدالت کو 17 نومبر تک کی مہلت

یاد رہے کہ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف العزیز یہ اور فلیگ شپ ریفرنس نمٹانے کے لیےاحتساب عدالت کو سترہ نومبر تک کی مزید مہلت دی تھی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بعد کوئی توسیع نہیں دی جائے گی سترہ نومبر تک کیسوں کا فیصلہ نہ ہوا تو عدالت اتوار کو بھی لگے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں