The news is by your side.

Advertisement

لاہور کی نواحی بستی نیاز بیگ کے سکّے دار کا تذکرہ

"سِکّے دار کا نام جب ہم بچپن میں بطور کہانی نویس، اخبارات کے فِلمی اشتہاروں اور بڑے بڑے تشہیری بورڈوں پر پڑھا کرتے تھے تو نام کی انفرادیت متوجہ کرتی تھی۔ اسکول کے زمانے میں فلمیں دیکھنا شروع کیں تو معلومات میں یہ اضافہ بھی ہوا کہ سکےّ دار نہ صرف ایک کام یاب فلمی مصنّف ہیں بلکہ ایک مشّاق اداکار بھی ہیں اور سر منڈے ہندو بنیے کا کردار تو گویا اُن کی گُھٹی میں پڑا ہوا تھا۔”

معروف صحافی اور مصنّف عارف وقار نے سکّے دار کی خود نوشت سوانح عمری ’ ہُوک‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ سطور رقم کی تھیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں: "جن لوگوں نے فلم ’جبرو‘ میں آتما رام اور فلم ’ ملنگی ‘ میں رُلیا رام‘ کے کردار دیکھے ہیں وہ سکےّ دار کی اداکارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔”

لاہور کی نواحی بستی نیاز بیگ میں تقسیمِ ہند سے کچھ وقت پہلے شروع ہونے والی سکےّ دار کی یہ آپ بیتی لاہور سے ہوتی ہوئی بمبئی تک پہنچتی ہے اور آخر میں ہمیں یورپ کی جھلک بھی دکھاتی ہے۔

سکّے دار کا اصل نام ملک رحیم خان تھا، لیکن وہ دورانِ گفتگو اپنی بات کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کثرت سے ’سکے بند‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے اور یہی ان کے نام کا حصّہ بن گیا۔ وہ 1927 میں‌ پیدا ہوئے تھے اور 3 جولا‎ئی 2006 کو لاہور ہی میں‌ ہمیشہ کے لیے ان کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔

سکّے دار نے فلمی دنیا میں‌ قدم رکھا تو کہانیاں اور مکالمے ہی نہیں شاعری بھی کی۔ جبرو وہ فلم تھی جو برطانوی راج میں‌ ایک واقعے پر مبنی تھی اور اسے رجحان ساز فلم کہا جاتا ہے اور اس کی کہانی اور جان دار مکالمے سکّے دار کے قلم سے نکلے تھے۔ اس فلم کو 6 جولائی 1956ء کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ سکّے دار نے چند فلموں کے لیے گیت نگاری بھی کی، لیکن ان کی وجہِ شہرت پنجابی فلموں‌ کی کہانیاں اور مکالمے تھے۔ ان کی میگا ہٹ فلم میں سے ایک فلم کا نام انورا جو 1970ء میں‌ نمائش پذیر ہوئی، اس نے کراچی میں پلاٹینم جوبلی منائی تھی۔ اس فلم میں‌ نغمہ، اعجاز، سلونی، سلطان راہی، منور ظریف جیسے مشہور اور باکمال اداکاروں‌ نے کام کیا تھا۔

آج بہت کم لوگ رحیم سکّے دار کے نام اور ان کے کام سے واقف ہیں۔ انھوں نے اپنی آپ بیتی کے علاوہ مشہور فلمی شاعر تنویر نقوی کی شخصیت اور فن پر بھی کتاب لکھی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں