The news is by your side.

Advertisement

بنگلہ دیش : بدترین سیلاب نے تباہی مچادی، کئی گاؤں ڈوب گئے، 70 لاکھ افراد متاثر

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں سیلاب نے سب کچھ تباہ کردیا ، کئی گاؤں ڈوب گئے، 70 لاکھ افراد مشکلات سے دوچار ہیں دس اضلاع میں سیلابی پانی نے ہر جگہ کو نگل لیا۔

تفصیلات کے مطابق مون سون کا موسم بنگلہ دیش میں اپنے ساتھ تباہی اور بربادی بھی لے آیا، موسلادھار بارش کی وجہ سے بنگلہ دیش میں ہر جگہ سیلاب کا منظر ہے۔

حالات اس قدر خراب ہیں کہ 7 لاکھ سے زائد لوگوں کو اپنا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا اور تقریباً 70 لاکھ افراد مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سینکڑوں گاؤں غرقاب ہو گئے ہیں اور ساتھ ہی بنگلہ دیش کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں کے کئی اضلاع میں حالات انتہائی سنگین نظر آ رہ ہیں۔ وہاں لوگوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق جمال پور، کری گرام اور گیبندھ میں منگل کی صبح تک 5 لاکھ سے زائد لوگ ہجرت کر چکے تھے۔ اس ہجرت کی وجہ سے گھریلو مویشیوں کی حفاظت بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر ابھرا۔ بتایا جاتا ہے کہ برہمپتر ندی بہادر پوائنٹ پر خطرے کے نشان سے 99 سنٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔

جنوبی ایشیاء میں مون سون کے سیلاب سے تقریبا چار لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، حکام نے بتایا ہے کہ ایک دہائی کی ریکارڈ طوفانی بارشوں سے بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مون سون، جو عام طور پر جون سے ستمبر تک جاری رہتی ہے، برصغیر پاک و ہند کی معیشت کے لیے بہت اہم ہے تاہم اس سے ہر سال اس خطے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی بھی ہوتی ہے۔

بنگلہ دیش کے سیلاب کی پیش گوئی اور انتباہی مرکز کے سربراہ عارف الزمان بھویان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک دہائی کا بدترین سیلاب ہے۔ شدید بارشوں کی وجہ سے دو اہم ہمالیائی دریا متاثر ہوئے ہیں برہم پتر اور گنگا، جو بھارت اور بنگلہ دیش سے گزرتے ہیں۔

رائع کے مطابق بنگلہ دیش میں بدترین سیلاب سے اب تک دس اضلاع متاثر ہوئے ہیں آئندہ 24 سے 72 گھنٹوں میں کم از کم تین مزید اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں