بارسلونا ؛(04 اپریل 2026): فلسطینی عوام کے حق میں بھرپور آواز بلند کرنے اور غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے درجنوں کشتیوں پر مشتمل ریکارڈ بیڑہ “گلوبل صمود فلوٹیلا” تیار کیا گیا ہے۔
گزشتہ مرحلے میں 42 کشتیوں اور 462 افراد پر مشتمل یہ قافلہ روانہ ہوا تھا، جبکہ اس بار اس مشن کا دائرہ تقریباً دوگنا کر دیا گیا ہے اور 12 اپریل کو 70 کشتیوں کے ساتھ 70 ممالک سے قریب ایک ہزار رضاکار روانہ ہورہے ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کے لیے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کا دوسرا بحری قافلہ آج اتوار کو روانہ ہوگا، جس میں درجنوں کشتیوں کے ذریعے طبی امداد اور دیگر ضروری سامان غزہ پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔
فلوٹیلا کے ترجمان پابلو کاسٹیلا نے کہا ہے کہ اس مہم کا بنیادی مقصد “غزہ میں جاری صورتحال پر بین الاقوامی شراکت داری کی مذمت، ذمہ داران کا احتساب، اور سمندر و خشکی کے راستے انسانی امدادی راہداری کھولنا” ہے۔
You are invited to join us for the launch of the largest flotilla the world has seen as it sets sail for Gaza to break the blockade.
The flotilla is the result of the work of thousands of activists who have come together from around the world to make it happen.
Resist with us.… pic.twitter.com/KTFXnNYt36
— Global Sumud Flotilla (@gbsumudflotilla) April 11, 2026
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے ابتدائی طور پر 39 کشتیوں پر مشتمل ریکارڈ بیڑہ تیار کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا غزہ کیلئے 39 کشتیوں پر مشتمل سب سے بڑا فلوٹیلا اسپین کی بندرگاہ بارسلونا سے روانہ ہوں گا بعد ازاں مزید کشتیاں فلوٹیلا کا حصہ بنیں گی۔
فلوٹیلا کا مقصد غزہ کا محاصرہ توڑنا اور انسانی بحران کو دنیا کے سامنے لانا ہے، ماضی میں فلوٹیلاز کو اسرائیل نے زبردستی بین الاقوامی سمندر میں روک لیا تھا، طغیانی کے باعث بین الاقوامی پانی کی جانب بڑھنے والے فلوٹیلا کی روانگی میں تاخیر کا سامنا ہے۔
منتظمین کے مطابق فلسطین کی جانب سفر کے دوران مزید جہاز بھی راستے میں شامل ہوں گے، ترک کارکنان بھی جلد اس مشن میں شریک ہوں گے، اس مرتبہ حکمت عملی کو مزید وسعت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں اسی تنظیم کے تقریباً 40 جہازوں کو اسرائیلی فوج نے غزہ پہنچنے سے پہلے روک لیا تھا اور سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت 450 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیش نظر یہ اقدام ناگزیر ہو چکا ہے اور وہ ہر خطرے کے باوجود محصورین تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل غزہ میں فوری امداد کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


