The news is by your side.

Advertisement

جرمنی میں پانچ مسافروں کے لیے’اڑن ٹیکسی‘کی کامیاب پرواز

کولون: جرمنی میں جیٹ اڑن ٹیکسی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، اس ٹیکسی کو ایک اسٹارٹ اپ کمپنی لی لیئم نے تیار کیا ہے اور اس میں پانچ افراد بیٹھ سکتے ہیں، جلد ہی یہ عام شہریوں کے لیے میسر ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق کمپنی نے اس پروٹوٹائپ ٹیکسی کی آزمائشی اڑان کا تجربہ انتہائی کامیابی کے ساتھ کیا ہے اور ان کے مطابق اس میں ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (وی ٹی او ایل) سسٹم ہے یعنی رن وے کے بغیر یہ ہیلی کاپٹر کی طرح اٹھتی ہے اور لینڈ کرتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکسی کی رفتار 186 میل فی گھنٹے یعنی 300 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ کمپنی نے اس کی تیاری کے لیے طویل عرصے تک تحقیق کی ہے اور اسے کئی طرح کے ٹیسٹ سے گزارا گیا ہے۔

اڑن ٹیکسی کو تکنیکی طور پر شاندار بنانے کے لیے اس میں ایک دو نہیں بلکہ 36 عدد برقی انجن نصب کیے گئے ہیں جو اسے عمودی پرواز کے قابل بناتے ہیں ۔ اگرچہ اس کی رفتار بہت تیز ہے لیکن فی الحال ایک مرتبہ چارج ہونے پر یہ 80 میل کا فاصلہ ہی طے کرسکتی ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا چارجنگ بیک اپ بڑھانے پر کام جاری ہے۔

لی لیئم کی سب سے کامیاب بات اس کا ڈیزائن ہے جو ڈرون موڈ پر ازخود یا پائلٹ موڈ میں کام کرتا ہے ۔ اس ٹیکسی میں دم اور ریڈار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی گیئر باکس ہے۔ مسافروں کے لیے اس میں آرام دہ نشستیں رکھی گئی ہیں اور اس میں بلبلہ نما شیشے کی کھڑکی سے ایک دائرے میں ہرجگہ کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیکسی 2025 تک بڑے شہروں میں عام دستیاب ہوگی۔دوسری جانب دیگر کئی کمپنیاں بھی ایسی برقی گاڑیوں پر کام کررہی ہیں جن سے جلد ہی ڈرون گاڑیوں اور ہوائی ٹیکسیوں کا خواب پورا ہوجائے گا۔

اگر آپ کا بچپن جیٹ سنز جیسا ناقابل یقین کارٹون دیکھتے ہوئے گزرا ہے تو یقین جانیں ، جس مستقبل کی جھلک اس کارٹون میں دکھائی گئی تھی وہ بس آپ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں