اسلام آباد : وزیر خزانہ محمداورنگزیب کا کہنا ہے کہ جو بھی گنجائش ملی بجٹ میں اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا، پاکستان اب معاشی استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں دستیاب تمام تر گنجائش کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے، اور اب پاکستان کامیابی سے معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد حقیقی معاشی ترقی اور گروتھ کے سفر کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔
انہوں نے موجودہ بجٹ کو ایک بزنس اور عوام دوست بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس کی جانب سے اس پر مثبت ردعمل آ رہا ہے۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہمیشہ برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی گروتھ پر ہی بات ہوتی ہے۔ اسی لیے وزیراعظم اور کابینہ کی خصوصی ہدایت پر برآمدات بڑھانے کے لیے سپر ٹیکس کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 71 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے جس سے برآمدی صنعتوں کو بڑی فنانسنگ دستیاب ہوگی۔ معاشی گروتھ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تعمیرات کے شعبے کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بڑے اعلانات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ زرعی فنانسنگ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد یہ 2 ٹریلین (2 ہزار ارب) روپے سے زائد ہو گئی جبکہ ملک میں جدید زراعت کو فروغ دینے کے لیے جدید زرعی مشینری کی درآمد پر تمام ڈیوٹیز صفر کر دی گئی ہیں۔
وزیراعظم قرض پروگرام کے تحت نوجوانوں اور تاجروں کے لیے 262 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں سے 125 ارب روپے کے قرضے صرف زراعت کے لیے ہوں گے۔
وزیرِ خزانہ نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ہرممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس سلسلے میں سب سے کم آمدن والے سلیب پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کر دی گئی جبکہ جن تنخواہ داروں پر پہلے 15 فیصد ٹیکس عائد تھا، اسے اب کم کر کے 13 فیصد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود پاکستان نے رواں سال معاشی لحاظ سے نمایاں اور مثبت پیشرفت کی ہے، اور اب ہم سب مل کر معاشی استحکام سے حقیقی معاشی ترقی کی طرف چل پڑے ہیں۔


