The news is by your side.

عمران خان نے امریکا سمیت کئی دوست ملکوں سے تعلقات خراب کئے، بلاول بھٹو

واشنگٹن: وزیرخارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ عمران خان نے امریکا سمیت کئی دوست ملکوں سے تعلقات خراب کئے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے واشنگٹن کے پاکستانی سفارتخانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے بہت کام کرناہے، یواین سیکریٹری جنرل نے اجلاس میں متاثرین کو سرفہرست رکھا۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ امریکا کا دورہ کامیاب رہا، امریکا کے دورے کا اولین مقصد سیلاب متاثرین کی مدد رہا، دورہ امریکہ میں وزیراعظم کی دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دورہ امریکا میں سیلاب کے علاوہ ہمارا ایجنڈا امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری تھا، تجارت، زراعت ، صحت و دیگرشعبوں میں مزید پیشرفت کا امکان ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا شکار 10 بڑے ممالک کو ملکر آواز اٹھانا ہوگی، بھارت اور پاکستان کوموسمیاتی تبدیلی سےمتعلق ملکرکام کرناچاہیے، موسمیاتی تبدیلی کے مسائل پر اتفاق نہ ہوا تو دنیا کا نقصان ہوگا۔

بلاول کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے جتنا بھی کریں وہ ناکافی ہے، اب تک جتنی بھی مدد ملی اس پر دنیا کے مشکور ہیں، ابھی ریسکیو اور ریلیف کے مرحلے میں ہیں، تعمیر نو کے مرحلے میں نہیں پہنچے۔

سیلاب سے تباہی کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ کورونا اور یوکرین جنگ کے باعث دنیا کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا، حال ہی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا تو سیلاب آگیا۔

وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اجناس بحران کا بھی سامنا ہے،سیلاب سے فصلیں تباہ ہوگئیں، سیلاب سے بڑی تباہی آئی، پورے پاکستان کو ملکر مقابلہ کرنا ہوگا، حکومت اوراپوزیشن کوملکرسیلاب زدگان کی مددکرنی چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب درست سمت میں جا رہے ہیں، آج اور 6 ماہ پہلے کے پاکستان میں واضح فرق نظر آرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد پہلا سیاست بعد کا کام ہے، اندازے کے مطابق اب تک سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، سیلاب سے نقصانات 30 ارب ڈالر سے بھی بڑھ سکتے ہیں۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ میں کسی بھی ملک سے تعلقات میں بہتری آئی؟ عمران خان نے ہماری خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچایا اور امریکا سمیت مشرق وسطیٰ و دیگردوستوں سے تعلقات خراب کئے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ سفیر کا کام رپورٹ کرنا ہے، کلاسیفائیڈ کمیونی کیشن رازہوتاہے، سفیر اسد مجید ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، غیر ذمہ دارانہ کام خان صاحب نے کیا، غلطی خان صاحب کریں اور سزا اسد مجید کو دوں یہ ناانصافی ہوگی۔

افغانستان سے متعلق انھوں نے کہا کہ سرحد پر امن وامان برقرار رکھنے کیلئے ذمہ دارانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی ، امن وامان کے حوالے سے صورتحال پر طالبان کو انگیج کرنا چاہیے، افغان حکومت نے جو وعدے کیے انہیں پورے کرنے چاہئیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ افغانستان کے فنڈز منجمد کرکے امریکا نےغلط مثال قائم کی، آج افغانستان کے فنڈز منجمد کئے کل ہمارے یا کسی اور کے کر دیں گے، میں اس فیصلے کیخلاف ہوں تاکہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو، امریکا کو اس معاملے پر اپنی پوزیشن سے آگاہ کر دیا ہے۔

بلاول بھٹو نے روز دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملکر سیلاب زدگان کی مدد کرنا ہوگی، 6 ماہ کیلئے سیاست بند کر دیں گے تو کوئی مصیبت نہیں آئے گی، ان حالات میں انتخابات کی بات سیلاب زدگان کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں