The news is by your side.

ہمیں مغربی اور مشرقی سرحد پر امن چاہیے: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت خطے کے دو اہم ملک ہیں، مذاکرات سے دونوں ملک اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کرتارپور راہ داری کھولے جانے کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے بھارتی صحافیوں کے اعزاز میں دفترِ خارجہ میں عشائیے کی تقریب منعقد ہوئی۔

ہمیں مغربی اور مشرقی سرحد پر امن چاہیے، بھارت کے ساتھ دوست ہمسائے جیسے تعلقات چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی وفاقی وزیر خارجہ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ ہمیں ماضی کو بھول کر مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، مذاکرات کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہمیں مغربی اور مشرقی سرحد پر امن چاہیے، بھارت کے ساتھ دوست ہمسائے جیسے تعلقات چاہتے ہیں، دونوں ممالک کو پائیدار امن کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خطے کی ترقی پائیدار امن سے جڑی ہوئی ہے، پاکستان خطے کے تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا ’سارک ممالک کا خطے میں کردار اہم ہے، پاکستان 70 سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 75 ہزار لوگوں کی قربانی دی۔‘


یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان نے کرتارپورکوریڈور کا سنگ بنیاد رکھ دیا


ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، 70 سال سے تقسیم کے زخم بھی نہیں بھرے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 123 ارب ڈٖالر کا نقصان ہوا، اس جنگ میں ہمارے 75 ہزار شہری شہید ہوئے۔

خیال رہے کہ آج وزیرِ اعظم عمران خان نے کرتارپور کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھ کر تاریخ رقم کر دی، کرتارپور راہ داری کے ذریعے بھارتی سکھ بغیر ویزے کرتارپور صاحب کے درشن کے لیے آ سکیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں