The news is by your side.

Advertisement

آگے بڑھنے کے لیے ہمیں پُر امن اور مستحکم ہمسائے چاہئیں: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطے میں پاک بھارت معاملات کے حوالے سے کہا ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں حادثاتی جنگ بھی برداشت نہیں کرسکتیں، پاکستان اور بھارت کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب مجھے سینیٹ میں طلب کیا جاتا ہے تو میں حاضر ہو جاتا ہوں، پارلیمنٹ کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔

بھارت نے کولڈ وار اسٹارٹ کرایا جو حماقت ہے، بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کا ڈراما بھی کیا گیا۔

وزیرِ خارجہ

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ 2 ایٹمی قوت پڑوسی دہائیوں سے جاری اپنے مسائل کو سمجھتے ہیں، کئی معاملات پر مذاکرات کر چکے ہیں لیکن ابھی بھارت کی طرف سے تعطل آ گیا ہے، ہر پارٹی نے بھارت سے مذاکرات کا پرچار کیا، الزام تراشی سےگریز کیا جائے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ’بھارت نے کولڈ وار اسٹارٹ کرایا جو حماقت ہے، بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کا ڈراما بھی کیا گیا، ہمیں امن مشرقی و مغربی دونوں سرحدوں پر درکار ہے، بھارت میں پاکستان سے زیادہ غربت ہے، پاکستان اور بھارت کو مل کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے اقوامِ متحدہ سائیڈ لائن ملاقات کے فیصلے پر از خود نظرِ ثانی کی تھی، وفاقی وزیر اپنے طور پر نہیں وزیرِ اعظم کی نمائندگی کرتے ہیں، پاک بھارت معاملات پر کوئی اپنے طور پر بیان نہیں دے سکتا۔

شاہ محمود نے کہا کہ قائدِ اعظم کی سوچ تھی کہ ملک آزاد ہو جائے گا تو سب مذاہب کو آزادی ہوگی، پاکستان میں مذہبی آزادی پر کوئی پابندی نہیں، امن ہماری خواہش اور ضرورت ہے، ہمیں پُر امن اور مستحکم ہم سائے چاہئیں تاکہ آگے بڑھ سکیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کی جو قیمت ادا کی بھارت کو اس کا احساس ہونا چاہیے۔

افغانستان

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مغربی سرحد پر دہشت گردوں کو شکست کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے، عمران خان اور پی ٹی آئی نے مسلسل کہا کہ افغانستان کا حل گفت و شنید ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ دور میں بھی ہم نے یہی بات کی، پاکستان نے ہمیشہ افغان حکام کی قیادت سے مذاکرات کی حمایت کی، طالبان کو تسلیم نہ کرنے والا امریکا بھی ان سے اب مذاکرات کر رہا ہے۔

چین، امریکا، قطر، سعودی عرب سب مذاکرات کے ایشو پر ایک پیچ پر ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ’17 سال خون کی ہولی کھیلی گئی، نقل مکانیاں ہوئیں، 30 لاکھ افغان شہری آج بھی پاکستان میں موجود ہیں، امریکا کی پالیسی میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے، فریقین اب اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ مذاکرات مسئلے کا حل ہے، ہم صرف فریقین کو بٹھا سکتے ہیں، اور یہ کردار ہم ادا کر رہے ہیں، ملکی مفاد میں کچھ چیزیں یہاں شیئر نہیں کی جا سکتیں، ابوظبی میں ہونے والی میٹنگ پر ایوان کو اعتماد میں لیں گے۔‘

انھوں نے کہا ’سعودی عرب، یو اے ای، قطر کو اعتماد میں لیاگیا، سارے عمل میں وہ ہمارے ہم نوا ہیں، خطے کے اہم ملک ایران کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ 2 نشستیں ہوئیں، معاملات پر ایک پیچ پر ہیں، چین بھی آن بورڈ ہے۔ چین، امریکا، قطر، سعودی عرب سب اس ایشو پر ایک پیچ پر ہیں۔‘

یمن کے معاملے پر پاکستان نیوٹرل رہے گا

شاہ محمود نے کہا ’یمن کے تنازعے پر پیش رفت کا بھی آغاز ہو چکا ہے، اس معاملے پر تعلقات میں تھوڑا تعطل آیا تھا، اب سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو ری سیٹ کر دیا ہے، یو اے ای کے ساتھ تعلقات کو از سرِ نو استوار کیا ہے، یمن کے معاملے پر پاکستان نیوٹرل رہے گا۔‘

سالانہ 3 ارب ڈالر کے تیل کے پیکج کے لیے پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے کوشش کی تھی لیکن ان کو نہیں ملا۔

سعودی عرب

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بیلنس آف پیمنٹ کے تناظر میں سالانہ 3 ارب ڈالر کے تیل کا پیکج ملا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے کوشش کی تھی لیکن ان کو نہیں ملا، یہ 9 بلین ڈالر کا پیکج سعودی عرب نے ہماری حکومت کو دیا ہے، سعودی عرب نے نئی آئل ریفائنری میں سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’فروری 2019 میں سعودی عرب کا اعلیٰ سطح وفد پاکستان آئے گا، کچھ دن میں یو اے ای پاکستان کے لیے پیکج کا اعلان کر دے گا، امریکا جو پہلے پیچھے ہٹ گیا تھا اب ساتھ کھڑا ہے۔‘

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں