پاکستان کا افغان امن عمل میں کردار جاری رکھنے کا عندیہ، وزیرِ خارجہ کا دورۂ کابل کا اعلان -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کا افغان امن عمل میں کردار جاری رکھنے کا عندیہ، وزیرِ خارجہ کا دورۂ کابل کا اعلان

ملتان: وفاقی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے افغانستان میں امن کے لیے پاکستان سے مدد کی گزارش کی ہے، ڈو مور کہنے والوں نے آج مدد مانگی ہے۔

تفصیلا ت کے مطابق ملتان میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وہ 15 دسمبر کو کابل کا دورہ کریں گے، دیرپا امن کے لیے افغان قیادت سے بات چیت ہوگی۔

سیاسی اختلافات کے با وجود مسئلہ کشمیر پر سب ایک ہیں، کسی کو مایوس نہیں کریں گے۔

شاہ محمود قریشی وفاقی وزیرِ خارجہ

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ نے پاکستان سے گزارش کی افغانستان میں امن کے لیے ہماری مدد کریں، کچھ دنوں بعد کابل جا کر افغان حکام سے ملاقات کروں گا، ہم افغانستان میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جب میں افغانستان گیا تو وہاں دیکھا گندم کا قحط ہے، ہمارے پاس گندم بہت زیادہ ہے اس لیے افغانستان کو تحفے میں دے دی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے، سیاسی اختلافات کے با وجود مسئلہ کشمیر پر سب ایک ہیں، کسی کو مایوس نہیں کریں گے، مسئلہ کشمیر پر تمام سیاسی جماعتوں سے بات کریں گے۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر مل بیٹھ کر مذاکرات کریں۔


یہ بھی پڑھیں:  ڈومور کا مطالبہ کرنے والے آج افغانستان میں‌ ہماری مدد مانگ رہے ہیں: وزیر اعظم


شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم وزارتِ خارجہ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، پاکستان کے ایک فیصلے نے کروڑوں سکھوں کے دل بدل دیے، بھارتی ریاست امرتسر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے، پاکستان کے خیر سگالی کے پیغام کو پوری دنیا نے سراہا۔

شاہ محمود نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کے سلسلے میں کہا کہ ابھی تو حکومت کو جمعہ جمعہ 8 دن ہوئے ہیں، اس کی نہ ضرورت ہے نہ نوبت آئی ہے۔ فواد چوہدری کے بارے میں کہا کہ وہ فعال طریقے سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، یہ پی ٹی آئی کے منشور میں ہے، جب کہ ملتان جنوبی پنجاب کا اہم ترین شہر ہے۔

شاہ محمود نے کہا ’ماضی کی حکومتوں نے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کیا، بجلی کی قیمت بڑھی ہے لیکن ہم نے کسانوں کے لیے قیمت آدھی کر دی، پچھلے 50 سال سے کوئی ڈیم نہیں بنایا گیا، تجارتی خسارہ بھی ورثے میں ملا، ڈاکٹر کوئی نسخہ دے گا تو مریض کو ٹھیک ہونے میں وقت لگتا ہے، پاکستانی معیشت کو بھی ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔‘

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں