The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کا ڈنمارک سے مسافروں کیلئے ٹریول ایڈوائزری پر نظر ثانی کا مطالبہ

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈینش ہم منصب سے مسافروں کیلئے ٹریول ایڈوائزری پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈینش کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق ڈنمارک کے وزیرخارجہ دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ، ائیرپورٹ پر دفترخارجہ کےحکام نے ان کا استقبال کیا، اس موقع پر ڈنمارک وزیرخارجہ نے اسلام آبادایئرپورٹ کےلاؤنج کا دورہ کیا ، جہاں ایئرپورٹ حکام کی انخلااورسفارتخانےعملےکےانتظامات سےمتعلق بریفنگ دی۔

جس کے بعد ڈنمارک کے وزیرخارجہ وزارت خارجہ پہنچے، جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا، اس موقع پر ڈنمارک کے وزیرخارجہ نے پودا بھی لگایا۔

وزارت خارجہ میں پاکستان اورڈنمارک کےدرمیان وفودکی سطح پرمذاکرات ہوئے ، مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

مذاکرات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان،ڈنمارک کیساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، پاکستانیوں کی ایک کثیرتعداد ڈنمارک میں مقیم ہے، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے معاونت پرشکر گزار ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے مراعات دےرہےہیں، ڈینش کمپنیاں،پاکستان میں سرمایہ کاری سے استفادہ کرسکتی ہیں،شاہ محمودقریشی

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان دو طرفہ تعاون کا فروغ قابل ستائش ہے، جرمنی، نیدرلینڈز، برطانیہ ،اٹلی، اسپین کے وزرائے خارجہ پاکستان آئے، ان وزرائے خارجہ کیساتھ افغانستان کی صورتحال پرتبادلہ خیال ہوا۔

افغانستان سے انخلا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایک ہزارسےزائدڈینش شہریوں کوکابل سےانخلا میں معاونت فراہم کی، افغانستان کےحوالےسےہمارے نقطہ نظر میں ہم آہنگی دکھائی دی، افغانستان میں خون خرابےاورخانہ جنگی کا نہ ہونا مثبت پہلو ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عالمی برادری افغانستان میں اجتماعیت کی حامل حکومت کی متمنی ہے ، عالمی برادری افغانوں کی معاونت کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے، اقتصادی بحران سےدہشت گرد گروہوں کوافغانستان میں قدم جمانےکاموقع ملےگا، ہمیں افغانستان کے حوالے سے اسپاییلرزکی موجودگی سے باخبررہنا ہوگا۔

اس موقع پر شاہ محمودقریشی نےڈینش ہم منصب کےساتھ ٹریول ایڈوائزی پرنظر ثانی کا مطالبہ بھی کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں