The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں بظاہر خانہ جنگی کا امکان ٹل گیا، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بظاہر خانہ جنگی کا امکان ٹل گیا ، عالمی برادری اپنے رابطے جاری رکھتے ہوئے افغانستان کی مدد کرے، پاکستان ’سہولت کار‘ کا اپنا کردار جاری رکھے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیدعلی گیلانی کےانتقال پرتمام پاکستانی اور کشمیری  افسردہ ہیں، بھارتی فوج کی جانب سےعلی گیلانی کےگھرکاگھیراؤکرناقابل افسوس ہے، میری دعاہےاللہ سیدعلی گیلانی کوغریق رحمت اور درجات  بلندکرے، ان کاکرداران کی استقامات کشمیریوں کی جدوجہدمیں ایک مشعل راہ ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ کشمیری قوم تجدیدعہداوران کی جدوجہدجاری رکھےگی، بھارت ان کے نمازجنازہ سے بھی خوفزدہ ہے، کل سے  شدید اضطراب میں ہوں، ہر کشمیری اور پاکستانی کے یہی جذبات ہیں۔

افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 20سال میں عالمی اتحاد نے فوجی انداز فکر کے تحت افغانستان میں امن کی کوشش کی ، عالمی اتحاد کی فوجی اندازسےامن کی کوشش زمینی حقائق پرمبنی نہیں تھی، دوحہ امن معاہدہ افغانستان کے قائدین کے لیےنئی امید لایا، بدقسمتی سے  بین الافغان مذاکرات میں نہایت کم پیش رفت ہوئی اور مزید پیچیدگی 31 اگست کو افواج کےانخلاکے اچانک امریکی اعلان سے پیدا ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کے فقدان اورطالبان کے ٹیک اوور نے دنیاکو حیران کردیا، بظاہر خانہ جنگی کا امکان ٹل گیا ہے، طالبان نے معافی، خواتین ،اظہار رائے  کی آزادی، روزگار اور تعلیم پراعلان کیے، طالبان سیاسی نظام سے متعلق افغان رہنماؤں سے بات چیت کررہے ہیں۔

کابل ایئر پورٹ پر دھماکوں کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ کابل ہوائی اڈے پر170 سے زائدجانوں کا ضیاع نازک صورتحال کی یاددہانی ہے، صورتحال زیادہ  متقاضی ہے کہ افغان قائدین دانائی کا مظاہرہ کریں، عالمی برادری اپنے رابطے جاری رکھتے ہوئے افغانستان کی مدد کرے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ملک تھاجس نے ہمیشہ کہا افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان نے امریکااور طالبان میں براہ راست بات چیت کی حمایت کی ،ہم نے ذمےدارانہ اور منظم انداز میں افواج کے انخلا کی بھی حمایت کی۔

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک کا مفاد نہیں، ہم نے افغانستان میں تمام نسلی برادریوں سےرابطہ کیا ہے ،ہم طالبان  کے اعلانات کو مثبت و حوصلہ افزا سمجھتے ہیں ، افغان قیادت کو سیاسی تصفیےکی ذمےداری کو قبول کرنا چاہیے۔

طالبان کی جانب سے حکومت کے اعلان کے حوالے سے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اجتماعیت کا حامل نظام طالبان کے لیےاہم ہے ، اس نازک مرحلے پر افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑا جائے، پاکستان ’سہولت کار‘ کا اپنا کردار جاری رکھے گا، ہمارے کردار کو ضامن کے طورپر غلط انداز میں محمول نہ کیاجائے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کے دورے کیے، مشترکہ تشویش اور علاقائی انداز فکر اپنانے کی ضرورت پر تفصیلی  بات کی، میری گفتگو کا محور و مرکز تین نکات پر رہا۔

انھوں نے مزید کہا کہ کابل میں پاکستانی سفارت خارجہ تیز ترین بنیادوں پر ویزے جاری کررہا ہے، پاکستان کے انٹرنیشنل ہوائی اڈوں پرآمد پر ویزے جاری کیے جارہے  ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں