The news is by your side.

Advertisement

بھارت ابھی تک بات چیت کے موڈ میں نہیں ہے ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

برسلز : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا بھارت ہمیں تنہائی کاشکارکرنا چاہتا ہے مگر آج جو ہوا وہ اس کے برعکس ہے, بھارت ابھی تک بات چیت کے موڈ میں نہیں ہے ، اسے بات چیت کے لیے وقت درکار ہے، معیشت کی بہتری پرسب سےتعاون کرنے کوتیار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برسلز میں یورپی یونین کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی قسم کی تنہائی کا شکار ہے، یہاں آنا ،اجلاس میں شرکت کرنا اور نیااسٹرٹیجک پلان طےکیاجارہاہے، سارےاقدامات اس بات کےمظہرہےکہ ہمارےتعلقات بڑھ رہےہیں۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا بھارت ہمیں تنہائی کاشکارکرنا چاہتا ہے مگر آج جو ہوا وہ اس کے برعکس ہے ، اقتصادی چیلنج 10ماہ نہیں کئی دہائیوں کی کوتاہیوں کانتیجہ ہے، دیرپا اقدامات پرجتنی سیاسی جماعتیں ساتھ اوراتفاق رائے بہترہوگا۔

معیشت کی بہتری پرسب سےتعاون کرنے کوتیار ہیں

شاہ محمود قریشی نے کہا معیشت کی بہتری پرسب سےتعاون کرنے کوتیار ہیں ، معیشت کا سہارا لےکر احتساب سے فرار ایک دوسری چیز ہے ، اپوزیشن کاشور شرابہ میثاق معیشت نہیں بلکہ احتساب سے نجات کے لیے ہے۔

پاک بھارت تعلقات سے متعلق ان کا کہنا تھا بھارت ابھی تک بات چیت کے موڈ میں نہیں ہے ، میراخیال ہے بھارت کوپاکستان سےبات چیت کےلیےوقت درکار ہے۔

اپوزیشن کاشور شرابہ میثاق معیشت نہیں بلکہ احتساب سے نجات کے لیے ہے

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا جی ایس پی پلس پریورپی ممالک کی مددپران کاشکرگزارہوں، بہت سے دوست یورپی ممالک پاکستان کی بلیک لسٹنگ کے حق میں نہیں ، یورپی یونین پر واضح کیا پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا احترام کیا جاتا ہے ، مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر غور کرنا ہو گا۔

پاکستان چاہتا ہے تنازعات کاحل، مروجہ سفارتی طریقہ کار سے ہو

افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان کا کردارسب کےسامنے ہے ، پاکستان کےکردارکا اعتراف زلمے خلیل زاد نےبھی کیاہے ، پاکستان چاہتا ہے تنازعات کاحل، مروجہ سفارتی طریقہ کار سے ہو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں