عافیہ صدیقی کی رہائی ومشکلات کی کمی میں کوشش کریں گے،شاہ محمود قریشی
The news is by your side.

Advertisement

عافیہ صدیقی کی رہائی ومشکلات کی کمی میں کوشش کریں گے،شاہ محمود قریشی

ملتان  : وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا کہنا ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی ومشکلات کی کمی میں کوشش کریں گے، آسیہ بی بی فیصلے پرنظرثانی اپیل دائر ہوچکی ہے، اس کا فیصلہ عدالت کرے گی، وہ پاکستان میں ہے،وہ بیرون ملک نہیں گئیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے  ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دورہ چین کے حوالے سے کہا کہ روزگارکی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں، شنگھائی میں بین الاقوامی ایکسپو میں وزیراعظم پاکستان کو مدعو کیا گیا، شنگھائی میں 130ممالک کےحکام میں سے7حکام نے خطاب کیا، خطاب کرنے والے 7حکام میں سے وزیراعظم عمران خان بھی تھے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ چین و روس کے صدر نے8 پویلین کادورہ کیا، جن میں ایک پاکستان تھا، چین میں دفاعی تعاون پربھی تبادلہ خیال ہوا، برآمدات بڑھانے پر چین سے اچھی پیشرفت ہوئی ہے، اس سال چین کے لیے ہماری برآمدات دگنی ہونے کا امکان ہے۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب چین دورے کے بعد معاشی بحران کا تاثرختم ہوجائے گا، ایلس ویلزسے مختلف اسٹیک ہولڈرزکی ملاقات ہوئی، ایلس ویلزسےملاقات میں دوطرفہ تعلقات پرزور دیاگیا اور امریکا سے انرجی ودیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پربات ہوئی۔

آسیہ بی بی پاکستان میں ہےوہ بیرون ملک نہیں گئیں

افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کی مذاکرات کی کوششوں کوتسلیم کررہاہے، امن مذاکرات کیلئےافغانستان کو پاکستان کی مکمل سپورٹ ہے، صدر اشرف غنی نے ایڈوئزی کونسل نامزدکی جو مذاکرات میں مدد کرے گی۔

آسیہ بی بی سے متعلق وزیرخارجہ نے کہا آسیہ بی بی فیصلے پر نظرثانی اپیل دائرہو چکی ہے،اس کا فیصلہ عدالت کرے گی، آسیہ بی بی پاکستان میں ہےوہ بیرون ملک نہیں گئیں، خواہشات پرچیزیں نہیں ہوتیں، ادارےقانون کے پابند ہیں۔

عافیہ صدیقی کے حوالے سے شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی ومشکلات کی کمی میں کوشش کریں گے، عافیہ کی بہن کی دفترخارجہ کوکچھ شکایات ملی تھیں ازالہ کریں گے، آئندہ ہفتے فوزیہ صدیقی سے ملاقات کروں گا،قانون کے دائرے میں مدد کریں گے۔

آئندہ ہفتے فوزیہ صدیقی سے ملاقات کروں گا،قانون کے دائرے میں مدد کریں گے

انھوں نے پاک بھارت تعلقات سے متعلق کہا کہ بھارت ہماراہمسایہ ہے، دونوں ملکوں میں اچھے تعلقات چاہتےہیں، بھارت سے تعلقات میں سردمہری ہے پیشرفت دکھائی نہیں دےرہی، بھارتی حکومت اس وقت انتخابات میں الجھی ہوئی ہے اور انتخابات کے لیے ایک مرتبہ پھر پاکستان کونشانہ بنائے گی، بھارتی حکام سے ابھی تک تعلقات میں کوئی اچھی پیشرفت نہیں ہوئی۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کوشش کررہے ہیں اپوزیشن کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں، ملک میں اتحاد اور صوبوں میں اتفاق ہے، پاکستان کے لیے سب مل کر کام کریں گے، دوتہائی اکثریت کسی کے پاس نہیں،آئینی ترمیم کے لیے اکثریت درکار ہے۔

100 روز پورے ہونے دیں،اقدامات سامنے آجائیں گے

شاہ محمود قریشی نے کہا 100 روزہ پالیسی کامطلب تھا عمران خان اپنے لوگوں کوجگائیں، پالیسی کامقصدتھاہم اپنےلیےٹارگٹ سیٹ کریں، ہم نے پالیسی کے ذریعےاقدامات اٹھائے ہیں جن پرکام بھی کیا گیا ہے، 100 روز پورے ہونے دیں،اقدامات سامنے آجائیں گے، اپنے نمائندوں کو ٹائم فریم دیا تھا،پیشرفت عوام کو نظرآئے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں